قصور
دریائے ستّلج میں بڑھتے ریلے سے قصور شہر کو خطرہ،انتظامیہ
جلد۔اقدامات کرے
تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج گنڈہ سنگھ والا قصور میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس سے قصور شہر اور نواحی دیہات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 80 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے
گنڈہ سنگھ و قریبی دیہات سے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ابتک 14 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر مشرقی پنجاب کے علاقوں سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں
زرائع کے مطابق انتظامیہ نے قصور شہر کو بچانے کے لئے حفاظتی بندوں پر دباؤ کم کرنے کی غرض سے رحیم یار کے مقام پر بند کاٹنے کا فیصلہ کیا تاکہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور شہر کو زیرِ آب آنے سے بچایا جا سکے
ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ قصوراور پاک فوج کی مشترکہ کوششوں سے ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں بے گھر ہونے والے افراد کو عارضی رہائش، کھانے پینے کی اشیاء اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے
گورنمنٹ ہائی اسکول کھڈیاں خاص،ڈگری کالج چونیاں،گورنمنٹ ہائی سکول پتوکی،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مصطفی آباد للیانی اور
ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کے قریب ریلیف سنٹرز قائم کئے گئے ہیں جن کے رابطہ نمبرز
ریسکیو 1122 کی ہیلپ لائن 1122،ضلعی کنٹرول روم قصور 049-9200123
،ڈپٹی کمشنر آفس قصور (ایمرجنسی ڈیسک) 049-9200200 ہیں
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں دریائے ستلج اور اس سے جڑے ندی نالوں میں پانی کا مذید اضافہ ہو سکتا ہے جس سے قصور کے نشیبی علاقے مکمل طور پر زیرِ آب آ سکتے ہیں
اہلِیان قصور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کی فوری بحالی اور نقصانات کے ازالے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور قصور شہر کو زیر آب آنے سے بچانے کے لئے جلد سے جلد عملی اقدامات کئے جائیں
واضع رہے کہ دریائے ستلج کے مختلف مقامات سے قصور شہر کا فاصلہ 8 سے 12 کلومیٹر ہے
جبکہ ارگرد سینکڑوں دیہات آباد ہیں