گجرات یونیورسٹی میں ورلڈ تمباکو ڈے سیمینار

گجرات(طارق محمود سے)جامعہ گجرات کے شعبہ ماحولیاتی علوم کے زیر اہتمام ورلڈ ارتھ ڈے اور ورلڈ تمباکو ڈے کے حوالہ سے ایک علمی سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں مختلف شعبہ جات کے طلبہ و اساتذہ نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے کرہ¿ ارض پر انسانی زندگی اور وسائل کی بقا کے لےے انفرادی سطح پر ذمہ دارانہ کاوشوں کی انجام دہی کا عہد کیا۔ UOGگرین سوسائٹی کی عملی کاوشوں کی بدولت منعقدہ اس علمی سیمینار کی صدارت کا فریضہ چیئر پرسن ڈاکٹر راشد سعید نے سرانجام دیا جبکہ شعبہ ماحولیاتی علوم کے سینیئر اساتذہ ڈاکٹر ذکی الزماں عاصم اور ڈاکٹر محسن عباس نے تمباکو نوشی کے عالمی و قومی منظر نامہ اور تمباکو نوشی کے مضمر اثرات کے حوالہ سے خصوصی سیر حاصل لیکچر پیش کئے۔ ڈاکٹر راشد سعید نے کہا کہ کرہ¿ ارض پر انسانی نسل کی بقا دیر پا عملی اقدامات کی متقاضی ہے ۔ انسانی آبادی میں بے ہنگم اضافہ، صنعتی و ماحولیاتی آلودگی، قوموں کے مابین نیوکلیائی و حیاتیاتی تباہ کُن ہتھیاروں کی اندھا دھند دوڑ، زمینی وسائل پر قبضہ کی کشمکش، بائیو ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کی بنا پر کرہ¿ ارض کی سالمیت کو کئی سنگین خطرات لاحق ہیں۔ کرہ¿ ارض کی حیاتیاتی تاریخ بہت قدیم ہے اور اس کرہ¿ ارض پر لاکھوں کڑوڑوں سالوں میں قدرتی آفات کی بنا پر پانچ مرتبہ مکمل تباہی وقوع پذیر ہو چکی ہے مگر اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ چھٹی آفاقی تباہی انسان کی خود ساختہ ہو گی۔ کرہ¿ ارض کا آئندہ منظرنامہ اگرچہ خطرناک نظر آتا ہے مگر نوجوان نسل انسانی بقا کو لاحق خطرات کو انفرادی سطح پر ذمہ دارانہ روّیوں کے مظاہرہ سے کم کرنے میں مددگارثابت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر ذکی الزماں عاصم نے تمباکو نوشی کے حوالہ سے اپنی سیر حاصل گفتگو میں کہا کہ تمباکو نوشی یقینا مضرصحت ہے۔ تمباکو نوشی کئی موذی امراض کا باعث بنتے ہوئے قیمتی انسانی زندگیوں کے خاتمہ کا باعث بنتی ہے۔ تمباکو نوشی سے دنیا بھر میں سالانہ 7ملین اموات ہوتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں تمباکو نوشی وسیع پیمانہ پر عام ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا بھر کے ان پندرہ ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمباکونوشی نسبتاً زیادہ ہے۔ تمباکو نوشی بارے قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان قوانین پر عملی اطلاق بہتر نتائج کا حامل ثابت ہو گا۔ ڈاکٹر محسن عباس نے کہا کہ تمباکو نوشی کئی موذی امراض کو جنم دیتے ہوئے کینسر، تپ دق وغیرہ کا باعث بنتی ہے۔ نوجوان طلبہ سماجی سفیر ہونے کے ناطہ سے اس سماجی و معاشرتی خرابی کے سدھار کے لےے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں سگریٹوں کی سالانہ کھپت86.7بلین ہے۔ 40فیصد تعداد ان بچوں کی ہے جو دس سال کی عمر سے ہی سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں جو ایک لمحہ ¿ فکریہ ہے۔ ڈاکٹر محسن نے اعداد و شمار کی روشنی میں تمباکو نوشی سے نجات کے لےے کچھ عملی اقدامات و تجاویز پیش کیں۔ سوسائٹی کوارڈینیٹر عائشہ صدیقہ نے زمینی وسائل کی حفاظت، کرہ¿ ارض پر ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں انسانی رویہ و کردار اور تمباکو نوشی کے جان لیوا خطرات کا تعارف پیش کیا۔ سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر راشد سعید نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ماحولیاتی علوم کے حوالہ سے ملکی جامعات کے مابین مقابلہ جات میں UOGطلبہ ٹیم کو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر انعامات واسناد پیش کیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.