کویت کی معروف تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنی "ویت فارن پیٹرولیم” نے پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے سے اپنی سرمایہ کاری نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے پاکستان میں موجود اثاثے پاکستان ایکسپلوریشن لمیٹڈ (پی ای ایل) کو تقریباً 6 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے ہیں۔

وزارت توانائی کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے”دی نیوز” کو بتایا کہ غیر ملکی تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں میں پاکستان کے گیس شعبے سے متعلق مایوسی کی لہر پھیل رہی ہے، خاص طور پر گیس کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ (سرکولر قرضے) کے مسائل کے باعث۔ پاکستان میں گیس کے شعبے کا سرکلر ڈیٹ اب 2700 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس نے عالمی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 2012 کی ای اینڈ پی پالیسی میں ترامیم کی منظوری میں 12 ماہ کی تاخیر نے بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے باوجود اس طرح کی تاخیر انہیں مزید مایوس کر رہی ہے۔

کویت فارن پیٹرولیم کمپنی نے پاکستان کے مختلف بلاکس میں اپنی سرمایہ کاری فروخت کرکے اپنے اثاثے دیگر ممالک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی اور سرکلر ڈیٹ جیسے مسائل کے باعث حکومتی اداروں کو عالمی کمپنیوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی توانائی کے شعبے میں مزید انخلاء روکا جا سکے۔پاکستان کی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری ضروری ہے، لیکن موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے، جو کہ ملک کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

بینظیر بھٹو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، ان کی روح کو سلام،سحر کامران

بے نظیر بھٹو کا نظریہ زندہ ہے،شازیہ مری

Shares: