کیا سمر کیمپس کی ضرورت واقعی ہمارے بچوں کو ہے؟؟؟ عفیفہ راؤ

جب سے صحافت کے شعبے میں قدم رکھا توفون کے کانٹیکٹ نمبرز سے لے کر سوشل میڈیا کی فرینڈ لسٹ اور فالوورز تک میں زیادہ تر وہ لوگ موجود تھے جن کا تعلق صحافت اور میڈیا انڈسٹری سے ہے ۔اور پھر جیسے جیسے فیس بک اور واٹس ایپ گروپس کا رواج بڑھنا شروع ہوا تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہر جان پہچان والے پر فرض ہے کہ وہ جو بھی گروپ بنائیں اس میں ہمیں ضرور ایڈ کرنا ہے۔۔اور یوں میں بہت سے گروپس میں شامل ہو گئی۔لیکن اس میں ایک چینج اس وقت آیا جب میں ماں بنی اور ایک دو ایسے گروپس کو پہلے تو میں نے خود لائک کیا جو ماو¿ں اوربچوں سے متعلق تھے لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ گروپس کی خود سے ریکویسٹ آنا شروع ہو گئیں مختصر یہ کہ اب ایک طویل فہرست ایسے گروپس کی ہے جو ماں اوربچوں سے متعلق ہیں اور میں ان کی ممبر ہوں۔اور میں ان گروپس کو فالو بھی کرتی ہوں کیونکہ ان میں موجود دوسرے لوگوں سے آپ بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں۔
آج صبح ایک ایسے ہی گروپ میں میری نظر سے ایک پوسٹ گزری جس نے مجھے سمر کیمپس جیسے موضوع پر لکھنے پر مجبور کر دیا۔آجکل سوشل میڈیا پر آپ کو سمر کیمپس کے اشتہارات ، مختلف پوسٹس اور گروپس کی بھرمار نظر آئے گی اور کیوں نہ ہو ان کا تو یہ سیزن ہے وہ اس وقت ایکٹو نہیں ہوں گے تو اور کب ہونگے۔لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اصل میں یہ سمر کیمپس کس کے لئے ضروری ہیں؟؟؟ ان سمر کیمپس میں ایسا کیا خاص ہے کہ ہمارے بچوں کو ضرور انھیں جوائن کرنا چاہیے؟؟؟

میری یاداشت کے مطابق ان سمر کیمپس کا رواج 2004یا 2005سے شروع ہوا اور اس وقت یہ کیمپس سکولز کی طرف سے ان بچوں کے لئے لگائے جاتے تھے جو کلاس میں اپنے باقی ساتھیوں سے پراگریس وائز کم ہوتے تھے ان کو صرف سکول بلایا جاتا تھا تاکہ کچھ توجہ دے کر ان کی کارکردگی کو تھوڑا بہتر کیا جاسکے۔ لیکن آج کل تو جیسے ہی گرمیاں شروع ہوتی ہیں میڈیا پر ہر طرف سے خوب شور کیاجاتا ہے
کہ ملک میں گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے اور بچوں کاسکول آنا جانا مشکل ہے ۔کسی چینل پرایک بچے کے گرمی سے بے ہوش ہونے کی خبر چلتی ہے تو کسی چینل پر ایک سے زیادہ کی۔اور حکومت پر شدید دباو¿ ڈالا جاتا ہے کہ جلد سے جلد چھٹیوں کا اعلان کیا جائے اور بات بھی ٹھیک ہے جب گرمی کی لہر اتنی شدت اختیار کر جائے تو معصوم بچوں کو گھر سے باہر نکالنا ان پر ظلم ہی ہے۔
لیکن چھٹیوں کی نوید ملتے ہی سمر کیمپس کروانے والے ادارے فل ٹائم ایکٹو ہو جاتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ ایڈمیشن مل سکیں اور ظاہری بات ہے ان کا یہ کاروبار ہے تو ان کی یہ کوشش جائز بھی ہے لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب مائیں خود سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کر کے اپنے بچوں کے لئے سمر کیمپس ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں لوگوں سے مشورہ طلب کر رہی ہوتی ہیں کہ کون سا سمر کیمپ سب سے اچھا ہے۔اب یہاں چند سوالات جنم لیتے ہیں کہ:

اگر ملک میں اس وقت اتنی گرمی ہے کہ بچے سکول نہیں جا سکتے تو سمر کیمپ کے لئے کیسے جا سکتے ہیں۔اس کا جواب یہ ملتا ہے کہ سمر کیمپ میں رومز ائیر کنڈیشنڈ ہوتے ہیں تو یہاں آپ کو میں یہ بتاتی چلوں کہ جو بچے سمر کیمپ جاتے ہیں یہ بچے کوئی گورنمنٹ سکولز میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے نہیں ہوتے یہ بچے جن سکولز میں پڑھتے ہیں ان میں بھی کلاس رومز ائیر کنڈیشنڈ ہی ہوتے ہیں۔
اس کی ایک لاجک یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ سمر کیمپ میں بچہ صرف دو یا تین گھنٹے کے لئے جاتا ہے اور واپس آجاتا ہے۔تو اگر ہم گرمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بچوں کو دو تین گھنٹوں کے لئے گھر سے باہر بھیج سکتے ہیں تو پھر ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہونا چاہیے کہ سکولوں کی گرمیوں میں ٹائمنگ تبدیل کی جانی چاہیں نہ کہ فل ٹائم چھٹیاں۔

سکولوں کے حوالے کے ایک شکایت اور بھی بہت زیادہ سننے میں آتی ہے کہ یہ والدین سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس کیوں لیتے ہیں ۔پہلے پہل یہ شکایت ان سکولوں سے آتی تھیں جن کی فیس باقی پرائیوٹ سکولوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی تھی لیکن بہت ٹائم ہو گیا کہ ان کی طرف سے تو یہ شکایت کم ہو گئی ہے شاید ان کو اس کی عادت ہو گئی ہے لیکن اب یہ شکایت ان سکولوں کی طرف سے آرہی ہوتی ہے جن کی فیس کئی ہزاروں میں ہوتی ہے ۔یہ والدین سکولوں کی فیس پر تو بولتے ہیں لیکن سکول سے چھٹیاں ہوتے ہی ان گھروں سے ہی تعلق رکھنے والی مائیں ہی سب سے پہلے اپنے بچوں کے لئے سوشل میڈیا پر سب سے بہترین سمر کیمپس کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہیں اور یہ سمر کیمپس ان سے جو فیس چارج کرتے ہیں وہ تقریبا ایک ہزار روپے فی گھنٹے سے بھی زیاد ہ ہوتی ہے سکولز جو فیس پورے ماہ کے لئے چارج کرتے ہیں وہ یہ سمر کیمپس چند گھنٹوں اور کچھ دنوں کے لئے چارج کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔


اس تحریر کے ساتھ دی گئی سوشل میڈیا کی پوسٹ اگر آپ دیکھیں جو صبح میری نظر سے گزری تو اس پوسٹ میں ایک ماں اپنے 2سال اور اس سے کچھ بڑی عمر کے بچے کے لئے سمر کیمپ کا مشورہ مانگ رہی ہے۔ کیا کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ دو سال کے بچے کو سمر کیمپپ کی کیا ضرورت ہے؟ جن بچوں کو آج کل سمر کیمپ میں داخلہ کروایا جاتا ہے ان عمر کے بچوں کو نہ تو سمر کیمپ کا خود سے پتہ ہوتا ہے نہ ہی ان کی اس کے بارے میں کوئی رائے یاسوچ ہوتی ہے کہ سمر کیمپ میں جاناچاہیے یا نہیں ۔ دراصل یہ سوچ آجکل ہماری ماو¿ں کے ذہن میں ہوتی ہے جس کے لئے پہلے وہ والد کو راضی کرتی ہیں اور اس کے بعد ان معصوم بچوں کو کھیلنے کا،باہر جانے کا ، نئے دوست بنانے کااور دوسری کئی ایکٹیویٹیز کا لالچ دے کر اس کا داخلہ کروا دیا جاتا ہے۔لہذا یہ سمر کیمپ بچوں کی نہیں دراصل ماو¿ں کی ضرورت پر اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں کیونکہ مائیں چاہتی ہیں کہ بچے کچھ ٹائم گھر کے علاوہ کہیں مصروف رہیں۔ماو¿ں کی اس پلاننگ کے پیچھے ہو سکتا ہے کہ ان کی کوئی جائز وجہ بھی ہولیکن بات یہ ہےکہ ان چھٹیوں کے دنوں میں بھی کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں پر یہ سمر کیمپ نامی بوجھ ڈال دیں بہت کچھ اس سے بہتر بھی سوچا جا سکتا ہے۔

ان سمر کیمپس میں بچے کیا سیکھتے ہیں یا ان کی کن صلاحیتوں پر کام کیا جاتا ہے ؟
کیا وہ سب سکھانے کے لئے صرف سمر کیمپ ہی واحد حل ہے ؟
ان سوالوں کے جوابات اگلی تحریر میں شائع کئے جائیں گے۔۔

اپنی رائے سے آگاہ کرنے کے لئے ای میل کریں:
afeefaumar@gmail.com

Afeefa Rao

ٹویٹر پر فالو کریں.

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.