لاہور میں سیلاب نے تباہی مچا دی، 20 ہزار سے گھر ڈوب گئے، ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے، خواتین، بچوں سمیت متاثرین کھلے آسمان تلے رہنےپر مجبور ہو چکے ہیں،پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے خیمہ بستی لگا دی، حکومت مدد کو نہ آئی،پولیس صرف شہریوں کو سیلابی پانی کے قریب جانے سے روکنے پر تعینات ہے،شہریوں کا قیمتی سامان،جانور پانی میں بہہ گئے،خواتین کی چیخ و پکار، مردوں کی دہائیاں، زندگی کی جمع پونجی ختم ہو گئی
بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں آنے والا سیلاب، جو نہ صرف پانی کا طوفان تھا بلکہ ایک دردناک المناک حقیقت بھی، موہلنوال کے بیس ہزار سے زائد گھروں کو اپنی گہرائی میں لے گیا۔ راوی کے کنارے بستا ہوا موہلنوال، آج بدقسمت اور بے یار و مددگار انسانوں کی بستی بن چکا ہے۔ وہی گھر جو کبھی مسکراہٹوں کی گواہی دیتے تھے، آج پانی کی لپیٹ میں آکر صرف سنسان یادیں بن کر رہ گئے ہیں۔ بیس ہزار سے زائد گھر، جن میں زندگی کی خوشیاں، خواب، یادیں بند تھیں، ایک لمحے میں پانی کے بے رحم ہتھیاروں میں بہہ گئے۔ وہ گھر، جن کی پہلی منزلیں اب پانی کے نیچے دب گئیں، اور سنگل سٹوری مکانات کی چھتوں کے اوپر سے بھی پانی گزر گیا.موہلنوال کے باسی، جنہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بچوں کے لئے چھت بنائی، آج وہی چھت ان کے سر سے چھن گئی۔ ایک لاکھ سے زائد انسان، جن میں خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان شامل ہیں، بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کپڑوں کے سوا کچھ بھی ساتھ نہیں، نہ کوئی سامان، نہ کوئی آسرا، بس درد اور دکھ کی ایک کہانی ہاتھ میں ہے۔
خواتین کی بے بسی کی چیخیں، بچوں کی بے سروسامانی، مردوں کی عاجزانہ دہائیاں، دل دہلا دینے والی یہ صورت حال، جو ہر انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ جانور، قیمتی سامان، اور زندگی کی جمع پونجی سب سیلاب کے پانی میں بہہ گئی۔ وہی پانی جس نے بستی کو ویران کر دیا، ان خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔حکومت کی بے حسی اور خاموشی دل دہلا دینے والی ہے۔ جب سیلاب نے تباہی مچائی، تو حکومتی اہلکار کہاں تھے؟ موہلنوال کے گھروں میں انسانی زندگی کی حفاظت کے لئے کوئی مدد کو نہ آیا۔ پولیس کی بھاری نفری صرف شہریوں کو پانی کے قریب جانے سے روکنے پر مامور ہے،ایسے وقت میں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے مظلوموں کا سہارا بن کر کشتی سروس شروع کی، تین کشتیوں کے ذریعے نہ صرف شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا بلکہ جانوروں اور سامان کو بھی بچانے کی کوشش کی گئی۔ خیمہ بستی قائم کی گئی جہاں متاثرین کو کھانے، طبی سہولیات اور راحت فراہم کی جا رہی ہے، لیکن یہ سب کچھ تب بھی کافی نہیں جب تک حکومتی سرپرستی کا احساس نہ ہو۔مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طہٰ منیب نے بھی موہلنوال کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کے علاوہ امدادی کاموں کا جائزہ لیا، موہلنوال میں مرکزی مسلم لیگ نے خیمہ بستی بھی قائم کر دی ہے جہاں بے گھر افراد مقیم ہیں، خیمہ بستی میں متاثرین میں تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا ہے جہاں علاج معالجہ اور مفت ادویات کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں گے
موہلنوال کی ایک متاثرہ خاتون کی آواز، جو دلوں کو ہلا دینے والی ہے، آج ہر پاکستانی کی آنکھوں کے سامنے رونے کی صدا بن گئی ہے،خاتون کا کہنا تھا کہ ہمارا کچھ نہیں بچا، بچے کندھوں پر اٹھائے، سامان پانی میں بہہ گیا، گھر مکمل ڈوب چکا ہے، نہ پہننے کو کپڑے، نہ کھانے کو کچھ، پنجاب کی وزیراعلیٰ کہاں ہے؟ کیا ہم لوگ پتھر ہیں جو ہماری طرف کوئی دیکھنے والا نہیں؟،ایک اور متاثرہ شہری نے کہا، "ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ پانی نہیں آئے گا، لیکن رات کے اندھیرے میں پانی آ گیا۔ اگر تھوڑی دیر اور ہوتی تو ہم سب پانی میں بہہ جاتے۔ مرکزی مسلم لیگ کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہمارے لئے موجود ہیں، ورنہ حکومت کی کوئی نشان نہیں۔”
یہ لاہور ہے، جہاں انسانیت اپنی آخری حدوں پر ہے،سیلاب کی یہ تباہی صرف پانی کی لپیٹ نہیں، بلکہ انسانوں کی بھلائی، امید، اور مستقبل کی تباہی ہے۔جہاں سیلاب نے نہ صرف زمین کو دھو ڈالا، بلکہ انسانیت کی شریانوں کو بھی کاٹ دیا۔ جہاں آنکھوں میں آنسو، دلوں میں خوف، اور ہاتھوں میں خالی پن ہے۔ یہاں کا ہر ایک انسان ایک زندہ المیہ بن کر رہ گیا ہے۔یہ وقت ہے کہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں، اور فوری طور پر متاثرین کی بحالی اور مدد کے لئے بھرپور اقدامات کریں۔ نہیں تو یہ دردناک مناظر ہماری تاریخ کے اوراق میں ایک سیاہ باب کی طرح رقم ہو جائیں گے، جسے یاد کرنا بھی انسانیت کے لئے باعث شرم ہوگا۔