بہاولپور ،باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان) لودھراں کے نواحی علاقے قاسم والا کی رہائشی اور گوگڑاں میں واقع نجی تعلیمی ادارے "الفیض اسلامک پبلک سکول” کی دسویں جماعت کی طالبہ دعا زینب کی مبینہ خودکشی کے واقعے نے علاقے میں سوگ کی فضا طاری کر دی ہے۔ دلخراش واقعے میں طالبہ نے مبینہ طور پر اپنے ہی استاد کی ہراسانی اور بلیک میلنگ سے تنگ آ کر 17 اپریل کو اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
پولیس کے مطابق، مرحومہ دعا زینب کے والد کی جانب سے تھانہ قریشی والا میں ایک شکایت درج کروائی گئی ہے، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی، جس نے حال ہی میں میٹرک کے امتحانات دیے تھے، کو الفیض اسلامک پبلک سکول کے عربی اور کیمسٹری کے استاد ثقلین ماتم کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا۔ مدعی کے مطابق، استاد مبینہ طور پر ان کی بیٹی کو موبائل فون کے ذریعے بلیک میل بھی کر رہا تھا، جس سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی قریشی والا پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم استاد ثقلین ماتم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، واقعے کے بعد مقامی بااثر افراد اور ایک صحافی نے مبینہ طور پر معاملے کو دبانے کی کوشش کی تھی، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا۔
اس افسوسناک واقعے نے تعلیمی حلقوں اور مقامی آبادی میں گہرے دکھ اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ جہاں اساتذہ کو روحانی والدین کا درجہ دیا جاتا ہے، وہیں ایسے واقعات معاشرے کے لیے ایک ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کی جائیں اور ملزم کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے مؤثر قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام شواہد اور بیانات کی روشنی میں تفصیلی تحقیقات کر رہے ہیں اور جلد ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔