لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
داستانوں کے کسی دلچسپ سے اک موڑ پر

گلزار (سمپورن سنگھ کالرا)

تاریخ پیدائش : 18 اگست 1936
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ100 کلو میٹر کے فاصلے پر، جی ٹی روڈ کے کنارے ضلع جہلم کا تاریخی قصبہ دینہ ضلع جہلم میں پیدا ہونے والے گلزارؔ بھارت کے مشہور گیت کار بھی ہیں۔ مشہور اداکارہ راکھی کے شوہر نامدار ہیں اورایک بیٹی میگھنا گلزار کے باپ ہیں۔ ریشم کا یہ شاعر آج بھی اپنی جنم بھومی سے اتنی ہی محبت کرتا ہے، جیسے آج سے پون صدی پہلے کرتا تھا:

ذکر جہلم کا ہے، بات دینے کی
چاند پکھراج کا، رات پشمینے کی
کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہوئی چاندی
رات کوشش میں ہے چاند کو سِینے کی

گلزارؔ 18اگست 1936 ء کو دینہ شہر سے قریباً تین کلومیٹر دوری پر واقع ایک گاؤں کُرلہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں ان کے والد مکھن سنگھ نے دینہ کے مرکزی بازار میں مکان لیا، دکان خریدی اور اپنے خاندان کے ساتھ یہاں منتقل ہو گئے۔ گلزارؔ نے بچپن کا زیادہ وقت دینہ کے اسی گھر میں گزارا تھا۔ یہ گھر اور اس کے آس پاس کی دکانیں آج بھی موجود ہیں، جس جگہ یہ گھر ہے اسے پرانا ڈاک خانہ چوک کہا جاتا تھا،لیکن اب اس کا نام پاکستانی چوک ہے۔ جب گلزار تقسیم کے بعد پہلی بار یہاں آئے، تو اپنے گھر کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
گلزارؔ کا آبائی گھر اب ایک شیخ خاندان کے پاس ہے۔ اس خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تقسیم سے پہلے وہ کالڑہ خاندان کے کرایہ دار تھے۔ بعد میں یہ گھر انہیں الاٹ کر دیا گیا۔شیخ خاندان کے ایک بزرگ شیخ عبدالقیوم ایڈووکیٹ گلزار کے ہم عمر ہیں۔ وہ گلزارؔ کے پچپن کے ساتھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے اور ہم دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ شیخ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے، تو میں نے ان سے کہا تھا کہ کیا ہم اس گلی کا نام ’’گلزارؔ سٹریٹ‘‘ رکھ دیں، تو گلزارؔ کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہوگی۔

شیخ عبدالقیوم کے مطابق یہ گلی پچھلے 70 سال سے اسی حالت میں ہے جب کہ کالرہ خاندان کے گھر کا ایک حصہ اب تک اپنی اصل حالت میں ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ یہیں پر گلزارؔ کے والد مکھن سنگھ کی کپڑے کی دکان ہوا کرتی تھی۔گلزارؔ کا یہ گھر قریباً چار فٹ چوڑی گلی میں واقع ہے اور گھر کا پرانا حصہ ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ ان کے گھر کے دوسرے حصے میں نئی عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔ دینہ کے مقامی لوگوں کا کہنا تھاکہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے ،تو کچھ دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس گھر کو خرید کر یہاں لائبریری بنا دی جائے، لیکن بعد میں اس بارے میں کچھ نہ ہو سکا، لیکن گلزار ؔکے دینہ آنے کے بعد اب اس گلی کو گلزار سٹریٹ کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔وہ سکول جہاں گلزارؔ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی، گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ کے میاں محلے میں واقع ہے۔ سکول کا وہ حصہ جہاں گلزارؔ کا کلاس روم تھا، اب موجود نہیں ، تاہم اس سکول کے ایک بلاک کا نام ’گلزارؔ کالرہ بلاک‘ رکھ دیا گیا ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ 1921ء میں پرائمری سکول کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1941ء میں اسے مڈل کا درجہ دیا گیا اور اسی دور میں گلزارؔ نے یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ 1989 ء میں اسے ہائی سکول بنا دیا گیا۔

شیخ عبدالقیوم بتاتے ہیں جب گلزار ؔکچھ دوستوں کے ساتھ سکول کی طرف جا رہے تھے، تو ان میں بہت جوش دکھائی دے رہا تھا، وہ سب سے آگے آگے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی بچہ خوشی خوشی سکول جا رہا ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ میں نے گلزارؔ سے کہا کہ آپ کوئی چیز ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔ گلزار نے پوچھا ؛وہ کیا؟‘۔۔۔ تو میں نے جواب دیا ؛ بستہ، جس پر وہ مسکرا دئیے۔

گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں اب بہت سے لوگ جانتے ہیں اور یہ بھی کہ دینہ اور ضلع جہلم کی ادبی روایات بہت قدیم ہیں۔جہلم کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے دینہ کے شاعر شہزاد قمر نے بتایا کہ اس خطے نے بہت سے باکمال لکھنے والے پیدا کیے ہیں۔ یہاں کے لکھنے والوں کی خاص بات، ان کی مزاحمتی سوچ ہے۔انقلابی شاعر اور مزدور رہنما درشن سنگھ آوارہ سے لے کر موجودہ دور میں تنویرسپرا، اقبال کوثر اور دوسرے لکھنے والوں کا انداز مزاحمتی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ آج بھی دینہ کے بہت سے شاعروں اور ادیبوں کا انداز مزاحمتی پہچان رکھتا ہے۔ دینہ کے ایک اور بزرگ شاعر صدیق سورج سے جب پوچھا گیا کہ دینہ کے لوگ گلزار کو کتنا جانتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ گلزار کے بارے میں تو سبھی جانتے تھے، لیکن گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں زیادہ لوگوں کو گلزار کے یہاں آنے کے بعد ہی علم ہوا۔دینہ میں گلزارؔ کے نام سے گلی اور سکول کے ایک بلاک کا نام گلزارؔ پر رکھنا دینہ کے لوگوں کے دلوں میں گلزار ؔکے لیے محبت کا اظہار ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انہیں گلزارؔ کے دوبارہ یہاں آنے کا انتظار ہے: دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے –

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام

غالب

بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں
سامنے ٹال کی نُکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے
چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردے
اور دُھندلائی ہوئی شام کے بےنُور اندھیرے سائے
ایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاں
چُوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسے
اپنی بُجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے
اِسی بےنُور اندھیری سی ” گلی قاسم ” سے
ایک ترتیب چراغوں کی شُروع ہوتی ہے
ایک قرآنِ سخن کا بھی ورق کُھلتا ہے
اسد اللہ خاں غالِب کا پتہ ملتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"دِل ڈھونڈتا ہے”

دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن
جاڑوں کی نرم دھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
آنکھوں پہ کھینچ کر ترے آنچل کے سائے کو
اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
یا گرمیوں کی رات کو پُروائی جب چلے
بستر پہ لیٹے دیر تلک جاگتے رہیں
تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے
برفیلے موسموں کی کسی سرد رات میں
جا کر اسی پہاڑ کے پہلو میں بیٹھ کر
وادی میں گونجتی ہوئی خاموشیاں سنیں
دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ بولوں میں تو کلیجہ پھونکے
جو بول دوں تو زباں جلے ھے
سلگ نہ جاوے اگر سنے وہ
جو بات میری زباں تلے ھے

لگے تو پھر یوں ، کہ روگ لاگے
نہ سانس آوے نہ سانس جاوے
یہ عشق ھے نامراد ایسا
کہ جان لیوے تبھی ٹلے ھے۔

ھماری حالت پہ کتنا رووے
آسماں بھی تُو دیکھ لینا
کہ سرخ ھو جاویں گی اُس کی آنکھیں
جیسے جیسے , یہ دن ڈھلے ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"سکیچ”
یاد ہے اِک دن
میرے میز پہ بیٹھے بیٹھے
سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے
چھوٹے سے اِک پودے کا
ایک سکیچ بنایا تھا
آ کر دیکھو
اس پودے پر پھول آیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"اِک نظم”
یہ راہ بہت آسان نہیں
جس راہ پہ ہاتھ چھڑا کر تم
یوں تن تنہا چل نکلی ہو!
اس خوف سے شاید، راہ بھٹک جاؤ نہ کہیں
ہو موڑ پہ میں نے نظم کھڑی کر رکھی ہے !
تھک جاؤ اگر
اور تم کو ضرورت پڑ جائے
اک نظم کی اُنگلی تھام کے واپس آ جانا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"رُخصت”
جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار
جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے
ایسے اِک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں
کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر
تیرے جانے کی گھڑی ، سخت گھڑی ہے جاناں !

گلزار صاحب کےالفاظ میں تروینی کا تعارف حاضر ہے۔

"تروینی نہ تو مثلث ہے، نہ ہائیکو، نہ تین مصرعوں میں کہی ایک نظم۔ ان تینوں ‘ فارمز’ میں ایک خیال اور ایک امیج کا تسلسل ملتا ہے۔ لیکن ‘تروینی’ کا فرق اس کے مزاج کا فرق ہے۔ تیسرا مصرعہ پہلے دو مصرعوں کے مفہوم کو کبھی نکھار دیتا ہے، کبھی اضافہ کرتا ہے، یا کبھی ان پر کمینٹ کرتا ہے۔ ‘ تروینی’ نام اس لیے دیا گیا تھا کہ سنگم پر تین ندیاں ملتی ہیں۔ گنگا، جمنا اور سرسوتی۔گنگا اور جمنا کے دھارے سطح پر نظر آتے ہیں ، لیکن سرسوتی جو ٹیکسیلا سے بہہ کر آتی تھی، وہ زمین دور ہو چکی ہے ۔ تروینی کے تیسرے مصرعے کا کام سرسوتی دکھانا ہے جو پہلے دو مصرعوں سے چھپی ہوئی ہے۔”

**************
وہ میرے ساتھ ہی تھا دور تک ، مگر اک دن
جو مڑ کر دیکھا تو وہ دوست میرے ساتھ نہ تھا

پھٹی ہو جیب تو کچھ سکّے کھو بھی جاتے ہیں
*************
کچھ مرے یار تھے رہتے مرے ساتھ ہمیشہ
کوئی آیا تھا، انھیں لے کے گیا، پھر نہیں لوٹے

شیلف سے نکلی کتابوں کی جگہ خالی پڑی ہے
*************
وہ جس سے سانس کا رشتہ بندھا ہوا تھا مرا
دبا کے دانت تلے، سانس کاٹ دی اس نے

کسی پتنگ کا مانجا، محلّے بھر میں لٹا!
*************
کوئی صورت بھی مجھے پوری نظر آتی نہیں
آنکھ کے شیشے مرے چٹخے ہوئے ہیں کب سے

ٹکروں ٹکروں میں سبھی لوگ ملے مجھ سے
*************
تیری صورت جو بھری رہتی ہے آنکھوں میں سدا
اجنبی لوگ بھی پہچانے سے لگتے ہیں مجھے

تیرے رشتے میں تو دنیا ہی پرولی میں نے!
************
اک اک یاد اٹھاؤ اور پلکوں سے پونچھ کے واپس رکھ دو
اشک نہیں یہ آنکھ میں رکھے ، قیمتی قیمتی شیشے ہیں!

طاق سے گر کے قیمتی چیزیں ٹوٹ بھی جایا کرتی ہیں
*************
آؤ سارے پہن لیں آئینے
سارے دیکھیں گے اپنا ہی چہرہ

سب کو سارے حسیں لگیں گے یہاں
************
عجیب کپڑا دیا ہے مجھے سلانے کو
کہ طول کھینچوں اگر،ارض چُھوٹ جاتا ہے

اُدھرنے سینے ہی میں عمر کٹ گئی ساری
*************
جس سے بھی پوچھا ٹھکانہ اس کا
اک پتہ اور بتا جاتا ہے

یا وہ بے گھر ہے، یا ہرجائی ہے
*************
زمین گھومتی ہے گِرد آفتاب کے
زمیں کےگِرد گھومتا ہے چاند رات دن

ہیں تین ہم! ہماری فیملی ہے تین کی
*************
لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
داستانوں کے کسی دلچسب سے اک موڑ پر

یوں ہمیشہ کے لئے بھی کیا پچھڑتا ہے کوئی؟
*************
کھڑکیاں بند ہیں، دروازوں پہ بھی تالے ہیں
کیسے یہ خواب چلے آتے ہیں پھر کمرے میں

Shares: