fbpx

وادی جنت نظیر مقبوضہ کشمیر کی پہلی خاتون ریپر کی جدو جہد

مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ ‘ریپر’ مہک اشرف وادی کی پہلی خاتون ریپر بن گئیں ہیں۔

باغی ٹی وی :ڈان آئیکون کی رپورٹ کے مطابق مہک اشرف نے اس وقت ‘ریپر’ گلوکاری کا آغاز کیا جب وہ نویں جماعت کی طالبہ تھیں۔

19 سالہ مہک اشرف نے امریکی ‘ریپر’ و موسیقار ‘امینم’ کی کہانی اور جدوجہد سے متاثر ہوکر اپنا نام بھی ‘منائم ام’ رکھا ہے۔

مہک اشرف المعروف منائم ام اس وقت گورنمنٹ ویمن کالج سری نگر سے بیچلر مکمل کرنے کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، تاہم اب تک وہ پوری وادی سمیت پاکستان و بھارت میں اپنی منفرد گلوکاری کی وجہ سے مقبول ہو چکی ہیں-

منائم ام کو 2016 میں اس وقت توجہ حاصل ہوئی جب قابض بھارتی فوج نے وہاں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان الدین وانی کو شہید کردیا تھا۔

حزب المجاہدین کے کمانڈر کی شہادت کے بعد وادی میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث وہاں 6 ماہ کے لیےتعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے اور اسی دوران ہی مہک اشرف نے ‘ریپر’ گلوکاری کا آغاز کیا اور جلد ہی لوگوں کی نظروں میں آگئیں۔

منائم ام کو ابتدائی طور پر مقامی ایف ایم ریڈیو کی خاتون ہوسٹ نے ریڈیو پر متعارف کرایا اور بعد ازاں انہوں نے 2 لڑکوں پر مشتمل ایک میوزیکل بینڈ کے ساتھ بطور گلوکارہ کام کا آغاز کیا اور جلد ہی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب گئیں۔

منائم ام کے مطابق لڑکی ہونے کے ناطے ‘ریپر’ گلوکاری میں ان کا آنا معیوب سمجھا گیا اور ابتدائی طور پر ان کے والدین نے بھی ان کی گلوکاری کی مخالفت کی لیکن بعد ازاں والدین ان کے شوق کے آگے ہار گئے اور ان کی سپورٹ کرنا شروع کی۔

منائم ام کے مطابق ابتدائی طور پر انہیں کہا گیا کہ وہ محض شہرت حاصل کرنے کے لیے گلوکاری کر رہی ہیں اور انہیں بھارتی گلوکارہ ڈھنچک پوجا بھی قرار دیا گیا۔

حکومت پاکستان نے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے گردوارا بابا گرو نانک پر فلمائے…

منائم ام نے بتایا کہ تاہم اب لوگ جان چکے ہیں کہ وہ محض شہرت کے لیے ‘ریپر’ گلوکاری نہیں کر رہی تھیں بلکہ وہ اس کے ذریعے مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے امریکی گلوکارہ و ریپر نکی مناج، کار ڈی بی، ڈریک اور ففٹی پرسنٹ کو اپنا پسندیدہ ریپر قرار دیا۔

منائم ام مستقبل میں ماحولیاتی آلودگی اور جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی گانے ریلیز کرنا چاہتی ہیں جب کہ وہ اپنی منفرد گلوکاری کے ذریعے وادی کشمیر کے سیاسی و سماجی مسائل کو بھی دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہیں۔

رابی پیر زادہ مصوری میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی