ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے،عبدالغنی صراف کنڈے کے ہاں 20 دسمبر 1949ء کو قصبہ پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے انہوں نے اے لیول اردو، کامرس ، اکائونٹنگ، بیچلرزساوئتھ ایشن سٹڈیز اینڈ اردولندن، ماسٹر آف ہومیوپیتھی لندن (M.Hom) سے تعلیم حاصل کی اور پیشے کے طور پرہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے-
ان کی پسندیدہ ادبی شخصیت:خواجہ الطاف حسین حالیؔ جن کی مسدس کی سحر انگیزی سے متاثر ہوکر میرا قیاس ہے شاعرِ مشرق کا قلم شکوہ جواب شکوہ لکھنے پر متحرک ہوا پسندیدہ غیر ادبی شخصیت ہومیوپیتھک طریقِ علاج کے بانی ڈاکٹر ہنی مین جن کی تحقیق و پیشکش کی بدولت دنیا کے کروڑوں انسان مستفید ہو رہے ہیں۔
مرزا غالب نے بیدل کو اپنا معنوی استاد تسلیم کیا تھا۔ غالبؔ میر تقی میر کو اپنا پیش رو مانتے تھے۔ غالب کے یہاں ردّ ومقبول کے واقعات موجود ہیں۔ غالب کسی کی شخصیت کو قبول کر لیتے ہیں کسی کی شخصیت کو ردّ کر دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے غالب کی نفسیات کار فرما ہے جسے احساسِ برتری اور احساس کمتری کہا جاتا ہے۔ غالب اپنے آپ کو سب سے بڑا شاعر بھی مانتے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے مثلاً
ہیں یوں تو زمانے میں سخن ور بہت اچھّے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
ہمارے عہد کے اہلِ قلم کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا شاعر تسلیم کریں۔ یہ کوئی عیب نہیں، نہ ہی اسے تعلّی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے آپ کی اہمیت کو تسلیم کرانے کا ایک طریقہ ہے۔ ڈاکٹر منور احمد کنڈے کے بعض اشعار میں یہ احساس موجود ہے۔ وہ جب تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں تو انھیں خیال گزرتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طریقے سے الگ سے ضرور ہیں۔ وہ ذرا دور سے، پردوں کے اس طرف سے۔ اس بات کا احساس ضرور دلاتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں۔
جس کو ہوں دل میں چھپائے رات دن
بس وہی موتی منورؔ اصل ہے
اس کا مطلب ہے۔ دنیا کے سارے جواہر نقلی ہیں، سارے موتی پھیکے ہیں جو خزانہ میری تحویل میں اللہ تعالیٰ نے دے دیاہے ، اور جومیرے تصرف میں ہے وہی اصلی ہے، آب دار ہے، یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنے موتی کی حفاظت کرتا ہے۔ یہی خیال شاعر کو اپنی قیمت بڑھانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ شاعر کو اپنے مقابلے میں دنیا کی ہر کرنسی کم قیمت لگتی ہے :
جہاں بھر کی کرنسی سے بالاتر ہوں میں
فروخت کرنا ہو خود کو پانچ دس میں نہیں
یہاں نفی اور اثبات کا معاملہ بھی ہے۔ کوئی اپنی ذات کا اثبات کرتا ہے تو خود بہ خود بہت سی چیزوں کی نفیہو جاتی ہے۔ یہ احساس اردو غزل کو غالب نے دیا ہے۔ غالب نے ہمیشہ اپنے آپ کو نایاب سمجھا۔ غالب آسانی سے کبھی کسی کو دستیاب نہیں ہوئے۔ منور احمد کے بعض اشعار میں ہمیں یہ احساس ملتا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں:
طے کرے فاصلہ وہ بھی تو کچھ
ہم سے ملنا ہے تو اِس پار آئے
اُس پار سے اِس پار آنا جواں مردی کا کام ہے۔ سمندر کو پار کرنا ۔ لہروں سے نبرد آزمائی، طوفانوں سے دو دو ہاتھ۔ ان خطروں سے بچ گئے تو ہم سے مل پاؤگے۔ ورنہ ممکن نہیں۔ ہم وہ گوہرِ نایاب ہیں جو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔
غالب نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کئی طرح کے اشعار کہے ہیں۔ ایک شعر اس طرح بھی کہا ہے :
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
تمنا کے دوسرے قدم کے متلاشی غالب کی نظر میں دنیا کبھی کبھی بہت حقیر ہو جاتی ہے۔ بچوں کا کھلونا، کھیلو اور توڑ دو۔ دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ منور احمد نے بھی اس طرح کی راہ سے گزرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنے زمانے اور مزاج کے لحاظ سے ذرا سا بدلا ہوا مزاج ہے ان کا :
میرے ماضی کے کھلونے ہیں منورؔ یہ تو سب
تم نے بس قصّہ سنا ہے خنجر و شمشیر کا
عالم انسانیت کی ایک مکمل تاریخ سمٹ آئی ہے اس شعر میں۔ یہ خنجر، یہ شمشیر، یہ تیر وتفنگ ایسے کھلونوں کی مانند ہیں جن سے میں ماضی میں کھیل چکا ہوں۔ یہاں موضوعات میں یکسانیت ضرور ہے۔ لیکن اظہار کا طریقہ بدل چکا ہے۔ماضی کے اللہ والوں کی جوانمردیاں شاعر کے احساسات کو گھیرے ہوئے ہیں ، منورؔ ابوابِ تاریخ کے بحور میں ڈوب چکا ہے، الفاظ بدل چکے ہیں۔ اسلوب نگارش میں تبدیلی آ چکی ہے۔ غالب کا زمانہ اور تھا اور منور کا زمانہ اور ہے۔ غالب کی زبان دوسری تھی منور کی زبان دوسری ہے۔ لیکن دنیا کی حقیقت جو دوسو سال پہلیغالب کی نظروں میں تھی آج دو سو سال بعد بھی دنیا کی حقیقت منورؔ احمد کی نظروں میں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔دلّی کے اسد اللہ خان غالب ؔنے کہا تھا ؎
ہوتا ہے شب و روز ہمیشہ مرے آگے
پیرمحل کے پیرِ سخنوراں منورؔ احمد کنڈے کہتے ہیں تم جو آج خنجر وشمشیر کی باتیں کرتے ہو۔ میرے بازو کل ان کھلونوں سے کھیل چکے ہیں۔
مرزا غالب اور منور احمد کے درمیان یہاں موازنے کی ہرگز کوئی بات نہیں۔ دو صدیاں بیت چکی ہیں۔۔۔ دونوں نے اپنے اپنے زمانوں کی عکاسی کی ہے۔ دردمندی اور تفکر کا احساس ہر زمانے میں ہر آدمی کو ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ برتری کا جذبہ جب اذہان سے پھوٹ کر زبانوں پر آتا ہے تو ذرے بھی خود کو سورج کے پیکر میں ڈھال لیتے ہیں۔ انسان تو ان ذرّوں سے بالاتر ہے۔ منورؔ احمد کنڈے ایک شاعر کا نام ہے ، اورشاعر عام انسان سے بالاتر ہوتاہے۔ یہ حسن و عظمت خالقِ کائنات کی طرف سے بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے۔
نمونہ تحریر:
۔۔۔۔۔
(نظم)
۔۔۔۔۔
بُلبلے
۔۔۔۔۔
تھا کنارہ وہ کسی تالاب کا
محو تھا میں سوچ میں ڈوبا ہوا
آ رہا تھا صاف پانی میں نظر
بادلوں نے آسماں گھیرا ہوا
پھر گھٹا سے اِک چمک پیدا ہوئی
اور منور ہو گئی ساری زمیں
ابر سے آئی گرج کی اِک صدا
اور بارش کا سماں پیدا ہوا
سطحِ پانی پر ابھرتے جا بجا
بلبلے لگتے تھے کتنے خوشنما
ایک لمحہ رُک کے مِٹ جاتے تھے وہ
اِک پتے کی بات کہہ جاتے تھے وہ
زندگی کی ہے حقیقت اس قدر
کیوں نہیں آتا بشر کو یہ نظر
موت کیا ہے اور کیا ہے زندگی
ہم سے پاؤ اے منورؔ آگہی
ہے ہماری اور تمھاری بات ایک
اور قضا کے سامنے اوقات ایک
بلبلے نے اک سبق سکھلا دیا
رہ گیا میں سوچ میں ڈوبا ہوا
غزل
۔۔۔۔۔
آسماں سے زمین پر اُترا
لفظ روحِ حسین پر اُترا
دورِ قدما سے اِرتقا پا کر
ذہنِ انساں مشین پر اُترا
ہم ہیں شاہد کہ دورِ حاضِر میں
رنگِ حِرفت ہے چین پر اُترا
مارِ قاتِل ہے جس کا شیدائی
وہ سپیرے کی بین پر اُترا
ہم تو محکوم لاالہ کے رہے
اُن کا ایماں ہے تین پر اُترا
ایک سجدہ دعا کا مسکن تھا
مہ جبیں کی جبین پر اُترا
جس نے پائی قلم کی سُلطانی
وہ ہی دل کے یقین پر اُترا
راز ہر صدق کا منورؔ جی
ہے محمدؐ کے دین پر اُترا
تصنیفات:
۔۔۔۔۔
۔ (1) پنجابی شاعری کا پہلا مجموعہ
۔ ’باغاں دے وچکار‘ ۲۰۰۳ء
۔ (2) اردو شاعری کا پہلا مجموعہ
۔ 2005ء ’بیداردل‘
۔ (3)طاقِ دل
۔ (اردو شاعری کا مجموعۂ دوم)
۔ (4)پنجابی شاعری کا مجموعۂ دوم
۔ ’پینگ ہُلارے‘
۔ (5)ابرِ قبلہ (مذہبی منظومات
۔ 2010ء)
۔ (6)حرفِ منورؔ منظومات
۔ 400 صفحات 2010ء
۔ (7)لختِ دل
۔ اردو وپنجابی کلام
۔ 2011ء
۔ (8)بحرِ خاموش
۔ اردو کلام غزلیات ومنظومات
۔ 2012ء
۔ (9)اوراقِ شفاء ہومیوپیتھی
۔ 2012ء
۔ (10)رودِ وفا
۔ شعری مجموعہ (اردو)
۔ 2012ء
۔ (11)برگِ شفاء
۔ ہربل ہومیوپیتھی 2012ء
۔ انگریزی زبان میںہربلزم
۔ او رہومیوپیتھی پرعلی الترتیب
۔ چار اور پانچ جلدوں پر
۔ مشتمل کار سپانڈس کورس)
۔ (12)بامِ دل
۔ (اردو شاعری)
۔ (13) دُرِ منور
۔ (مذہبی مثنوی منظومات)
۔ (14)شبیہِ دل
۔ (زیرِ ترتیب)
ایوارڈ:
۔۔۔۔۔
۔ (1)فیلو آف دی چارٹرڈ سوسائٹی آف ہومیوپیتھی اینڈ نیچرل تھیراپیوٹکس لندن۔۔۔
۔ (2)پولنگ پرنسپیلیٹی سے متعدد اعزازات (نوبل بردہڈ ممبر شپ۔۔۔ نائٹ ہڈ۔
۔ (3)ڈاکٹر آنریز کوسا۔۔۔۔ اور مزید نوبیلیٹی ٹائٹلز