ورلڈ ہیڈر ایڈ

مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین — بلال شوکت آزاد

آج دنیا بھر میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ دن مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندوں اور تشدد پسندوں پر اجتماعی لعنتیں بھیجنے کے دن کے طور منایا جانا چاہیئے۔

میرے علم کے مطابق اللہ نے آسمان سے کوئی مذہب اور عقیدہ آدم علیہ سے لیکر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تک ایسا نہیں اتارا جو بندوں کو انتہا پسندی اور تشدد پر آمادہ کرے یا انہیں اس کا راستہ دکھائے البتہ بندوں نے حسب منشاء اور اپنی انتہا پسندانہ سوچ کی پرورش کی خاطر مذاہب اور عقائد سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے کھلواڑ کیا۔

اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت آدم و حوا علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے عظیم عابد و زاہد کی مذہبی انتہا پسندی اور روحانی و نفسانی تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے ان علیہ اسلام کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا اور پھر یہ سلسلہ رکا ہی نہیں شیطان اور اسکی ذریت کی وجہ سے۔

اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت موسی علیہ اسلام اور ان کی قوم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ فرعون اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت عیسی علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم سرداروں اور انکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

کس کس کا نام لوں اور کتنوں کو یاد کروں کہ ادھر تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ایسے انسانوں کے ناموں سے جو اپنے اپنے وقت میں اپنی جان, مال اور عزت سے گئے کہ ان کے مذاہب اور عقائد یکساں اور متفقہ نہیں تھے ان انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کے ساتھ جنہوں نے ان کا جینے کا حق چھین لیا۔

حالیہ دنوں میں مذہبی اور عقیدہ جاتی انتہا پسندی کی عظیم الشان مثالیں اگر دیکھنی ہوں تو بھارت اور اسرائیل سے بہتر مجھے اور مثال نہیں ملتی کہ ان دو ممالک کے کیا خواص اور کیا عوام؟ دونوں طبقوں میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد پسندی اپنے عروج پر ہے اور ان کا شکار مسلمان ہیں, نہتے مسلمان, مظلوم و مقہور مسلمان, زبردستی کے غلام مسلمان قصہ المختصر کشمیر اور فلسطین کے مسلمان کہ وہ سب ان من حیث القوم مذہبی انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کی بنیاد پر انکی انتہا پسندی اور تشدد کا شدید شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں معروف امن کی فاختہ اور کبوتر, عالمی عدالت انصاف کی اندھی دیوی اور اقوام متحدہ جو کہ دراصل اقوام شرمندہ کا عالمی ادارہ ہے بھنگ پی کر سوئے ہوئے ہیں اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

ایک کڑوی ترین حقیقت سے پردہ اٹھا دوں کہ نام نہاد انسانیت و انصاف اور رواداری کے علمبرداروں کی جانب سے اعلان کردہ "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کے دن” کی مروجہ و نافذالعمل تعریف پر دنیا کا ہر قدیم اور جدید مذہب, عقیدہ, نظریہ اور فرقہ پورا اترتا ہے اور شامل ہے سوائے اسلام اور مسلمانوں کے, نہیں یقین تو ذرا ضمیر کو جھنجھوڑ کر "گلوبل ویلیج” اور "انسانیت ایک مذہب” جیسے کھوکھلے نعروں سے باہر نکل کر نظر دوڑالیں تو آپ کو ایسے ایسے کڑوے سچ سننے پڑھنے اور دیکھنے کو ملیں گے جس کے بعد آپ خود پر خودکشی کو حلال اور فرض کرلیں گے۔

کیا پاکستان کا قیام اور وجود "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” کی واضح اور روشن مثال نہیں کہ جب برصغیر پاک و ہند کی ایک مذہبی اکثریت مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر انتہا پسند اور تشدد پسند قوم میں بدلی تو اس قوم کی شکار ایک دوسرے مذہب کی اقلیت ہوئی تو پھر جنم لیا "دو قومی نظریہ” اور "تحریک آزادی” پاکستان نے اور بالآخر پاکستان نقشے پر ابھر کر آیا۔

اپنے پڑوسی ملک بھارت کی ہی بات کریں کوئی بھی غیر جانبدار انسان, ادارہ, سیاسی پارٹی اور تتظیم چھٹتے ہی بھارت کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسند اور پر تشدد ملک قرار دیدے گا کہ کشمیر میں ہر منٹ پر یہ سوکالڈ سیکیولر جمہوریت مذہب کارڈ کی بنیاد پر قتل عام, ظلم, زیادتی, جبری گمشدگیوں, جنسی زیادتیوں اور تمام بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں میں پیش پیش اور سر فہرست ہے۔

جس کسی انسانیت کے چیمپئن نے یہ دن "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” تفویض کیا ہے دنیا کو وہ کوئی مہا منافق ماں باپ کی منافق اولاد ہے کہ جو مرگئے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد تو رہ گئی (جو کہ اچھی بات ہے) پر جو ہر منٹ پر کشمیر, فلسطین, شام اور اراکلن میں مر رہے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد نہیں آئی؟

یہ "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” کے سطحی سوچ والے سوکالڈ پیروکار سارے ہی منافق ہوتے ہیں اور شومئی قسمت "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” میں جتنی انتہا پسندی اور تشدد پسندی پائی جاتی ہے شاید ہی کسی الہامی و انسانی ساختہ مذہب یا عقیدے میں اس کا اتنا وجود ہو؟

میں ایسے دنوں کو متاثرین کے جلے پر نمک چھڑکنے کے مترادف سمجھتا ہوں کہ جو مرگئے انہیں ہماری دعائیں ہی کافی ہیں جبکہ جو زندہ ہیں پر مرنے کی کگار پر ہیں ہماری سوکالڈ انسانیت اور حکمت و مصلحت کی بھینٹ چڑھ کر ان کا کون پرسان حال ہے زمین پر اللہ کے بعد؟

میں تو اس دن کی مناسبت سے بس یہی کہوں گا کہ جو لوگ اس دنیا سے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہوکر چلے گئے اللہ ان کے ساتھ انصاف پر مبنی معاملہ فرمائے پر جو لوگ اس دنیا میں ابھی بھی مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہو رہے ہیں اور حالت نزع میں ہیں اللہ ہمیں انہ سب کو اس ظلم سے نجات دلانے کی توفیق, ہمت اور ہدایت نصیب فرمائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.