سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان جلد متوقع ہے-
خبررساں ادارے اردو نیوز کے ساتھ انٹرویو میں سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے کہا ہے کہ ’آپ دیکھیں گے سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان ہو گا، میری رائے میں یہ دورہ اسی سال ہو سکتا ہے، میں تو اسے مثبت دیکھ رہا ہوں،دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بڑا دورہ اس وقت ہوتا ہے جب اس میں آؤٹ کم نکلے، کچھ معاہدوں پر دستخط ہوں اور کوئی بڑی پیش رفت ہو، اس حوالے سے کام جاری ہے، دونوں طرف سے تیاریاں کی جائیں گی کہ اس دورے کے نتائج کیا ہوں گے، باقی جو لاجسٹک چیزیں ہیں وہ تو 10 دن کے نوٹس پر بھی ہو جاتی ہیں۔
پاکستانی سفیر نے بتایا کہ 34 میں سے 12 معاہدے جن کی مالیت 800 ملین ڈالر ہے، ان پر مکمل عملدرآمد ہوا ہے جبکہ باقی پر کام جاری ہے آئندہ چند ماہ میں مزید پیشرفت دیکھیں گے اس میں کچھ معاہدے، آئی ٹی، تجارت، مین پاور ایکسپورٹ اور زراعت سے متعلق ہیں سعودی عرب سے ہونے والے معاہدوں کی مجموعی مالیت 2.8 ارب ڈالر تھی اور یہ نجی سیکٹر میں ہیں اس کے علاوہ حکومتی سطح پر کچھ معاملات زیرِ غور ہیں جن کے حوالے سے جلد مثبت خبر ملے گی۔
احمد فاروق نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے دوران مملکت نے مثبت کردار ادا کیا اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت کی،سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے پاکستان اور انڈیا کے دورے کیے، وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان دونوں ملکوں سے رابطے میں رہے،انڈیا کے خلاف جنگ میں ہم نے جس طاقت کا مظاہرہ کیا، سفارتی حلقوں کو اس کا اندازہ تو تھا تاہم اس کا حقیقی مظاہرہ اور فعالیت دیکھنے کے بعد پاکستان کی اہمیت بڑھی ہے۔
پاکستانی سفیر کے مطابق سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ہے اس سال سعودی عرب سے پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سعودی عرب کے لیے برآمدات بھی ایک سال میں 10 فیصد بڑھی ہیں،اوورسیز پاکستانیوں کا ملکی معاشی استحکام میں انتہائی اہم کردار ہے، ترسیلات زر کے ذریعے وہ پاکستان کی معیشت کے استحکام میں مسلسل کردار ادا کر رہے ہیں-