مودی جعلی ڈگری اسکینڈل نے بی جے پی آر ایس ایس کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول دی
شفاف بھارت کے دعوے کھوکھلے نکلے، مودی سرکار اپنی ڈگری کا سچ عوام کو نہ دکھا سکے،غریب ڈگری نہ دکھائے تو جیل، مودی ڈگری چھپائیں تو قانون اندھا ، نیےبھارت میں انصاف دفن ہوچکا،ڈگری اسکینڈل پر پردہ ڈالنے کی نئی کوشش، دہلی ہائی کورٹ نے عوام کا حقِ جانکاری چھین لیا،دی وائر کی رپورٹ کے مطابق "دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی بیچلر ڈگری کی معلومات فراہم کرنے کا سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کا حکم کالعدم قرار دے دیا”دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی ڈگری کو ذاتی معلومات قرار دے کر تفصیلات ظاہر کرنے کی اجازت سے روک دیا ، محض عوامی عہدہ رکھنے سے کسی کی ذاتی معلومات عوامی نہیں ہوجاتیں، دہلی ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ تعلیمی ریکارڈ افشا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ اعتماد اور رازداری کے زمرے میں آتا ہے ،دی وائر کے مطابق فیصلہ 175 صفحات پر مشتمل، عدالت نے ڈگری کی تفصیلات مکمل طور پر ذاتی قرار دے دیں، ہائی کورٹ نے چھ ماہ بعد فیصلہ سنایا، 27 فروری کی سماعت کے بعد رائے محفوظ تھی، شہریت کے ثبوت کے لیے شہریوں پر دباؤ کے درمیان مودی کی ڈگریوں کا تنازعہ دوبارہ شدت اختیار کر چکا ہے،
دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر کانگریس جنرل سکریٹری جیرام رامیش نے بیان دیتے ہوئے کہا "مودی کی تعلیمی ڈگری پوشیدہ رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے، دیگر تمام افراد کی ڈگریاں عوامی ہیں، لیکن وزیراعظم کی تفصیلات کیوں پوشیدہ رکھی جا رہی ہیں”رائٹ ٹو انفارمیشن اور شفافیت کی کارکن انجلّی بھاردواج نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہائی کورٹ کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے کیونکہ جمہوریت میں لوگوں کو معلومات کا حق حاصل ہے سپریم کورٹ کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو اپنے تعلیمی، مالی اور مجرمانہ ریکارڈ افیڈاویٹ پر ظاہر کرنا لازمی ہے، امید ہے کہ وزیراعظم خود دہلی یونیورسٹی سے اپنا رول نمبر اور 1978 کے گریجویٹس کے مارکس جاری کروائیں گے،
مودی راج میں جمہوریت کا جنازہ نکل چکا، عدالت صرف طاقتور کی ڈھال، غریب بےیار و مددگار رہ گئے