کانگریس رہنما راہول گاندھی کی پول کے دوران جاری ‘ووٹر یاترا’ کے موقع پر ایک شخص نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا الفاظ کہے، جس کے بعد داربھنگہ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ واقعہ کے سلسلے میں سِمری تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی اور ایک ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص کانگریس کا جھنڈا تھامے ہوئے وزیر اعظم مودی کے خلاف ہندی میں گالی گلوچ کر رہا تھا۔ یہ واقعہ راہول گاندھی کی ‘ووٹ چوری’ کے خلاف احتجاج کی تقریب کے دوران پیش آیا۔ اس کے بعد بی جے پی نے معاملہ درج کرایا اور کانگریس سے معذرت کا مطالبہ کیا۔ پٹنہ میں بھی اس واقعہ کے حوالے سے راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعظم کے خلاف استعمال کی گئی زبان کی شدید مذمت کی اور اسے ملک کے جمہوری نظام پر ایک بدنما داغ قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس سیاست اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک غریب ماں کا بیٹا 11 سالوں سے وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھا ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر لے جا رہا ہے۔”

بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور ان کی والدہ کے خلاف گالیاں "اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر گئی ہیں”۔ انہوں نے راہول گاندھی اور آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو سے معذرت کا مطالبہ کیا، جو اس ریلی کا حصہ تھے۔بہار کے وزیراعلیٰ نیتیش کمار نے واقعہ کو "نا مناسب” قرار دیا اور کہا، "کانگریس اور آر جے ڈی کے پلیٹ فارم سے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال انتہائی غیر مناسب ہے، اور میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔”تاہم، کانگریس کے رہنما پاون کھیڑا نے اس واقعہ کی تردید کی اور کہا کہ بی جے پی غیر متعلقہ مسائل اٹھا کر اہم موضوعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Shares: