نیو یارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ نے بھارتی حکومت کے جنگی جنون اور فسطایت کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے حساس ٹیکنالوجی اور اسلحہ روس کو فراہم کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی ایرو اسپیس کمپنی ایچ آر اسمتھ گروپ کی”ٹیک ٹیسٹ” کمپنی نے بھارت کو 2 ملین ڈالر کی حساس ٹیکنالوجی فروخت کی، جو بعد ازاں روس کو منتقل کی گئی۔ ایچ آر اسمتھ گروپ کی "ٹیک ٹیسٹ” کمپنی نے 2023-24 کے دوران بھارت کو 70 سے زائد انتہائی حساس ‘ٹائر 2’ ممنوعہ ٹیکنالوجی فراہم کی، جن میں نیویگیشن، ایرو اسپیس، ریڈار، اور جدید سیمی کنڈکٹرز شامل ہیں،یہ ٹیکنالوجی حساس سول و فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس کی فراہمی عالمی سطح پر پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ "ٹیک ٹیسٹ” کمپنی نے 2023-24 میں بھارتی کمپنی ہندوستان ایرو ناٹکس کو 118 بار ممنوعہ ٹیکنالوجی کی کھیپیں بھیجیں،اس کمپنی نے 13 بار ان حساس ٹیکنالوجیز و پرزوں کو روسی اسلحہ ایجنسی روسوبورون ایکسپورٹ کو فروخت کیا، جو امریکی اور برطانوی پابندیوں کے تحت ہے۔ روسوبورون ایکسپورٹ نے اس کاروبار کے بدلے 14 ملین ڈالر ادا کیے۔
رپورٹ کے مطابق، ہندوستان ایرو ناٹکس نے حساس پرزے خریدنے کے محض 19 دن بعد انہیں روسی اسلحہ ایجنسی کو فروخت کر دیا، اور فروری 2024 میں بھارت سے فروخت شدہ ٹیکنالوجی محض 18 دن میں روس پہنچا دی گئی،اس کاروباری تعلقات کو دیکھتے ہوئے ہندوستان ایرو ناٹکس کو روسوبورون ایکسپورٹ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار قرار دیا گیا ہے،اس کے علاوہ، برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے 2023 میں حساس آلات کی روس منتقلی پر ریڈ الرٹ جاری کیا تھا، اور کاروباری اداروں کو اس حوالے سے انتباہ کیا تھا۔ ہندوستان ایرو ناٹکس امریکی حکومتی ڈیٹا بیس میں بھی روسی فوجی سپلائر کے طور پر درج ہے،رپورٹ کے مطابق، روسی جنگی مشینری کے لیے حساس ٹیکنالوجی کی فراہمی مغربی پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔