fbpx

موجودہ حکومت کتنا قرضہ لے چکی

باغی ٹی وی : موجودہ حکومت کے حاصل کردہ بیرونی قرضے 33 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں.

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جولائی 2018 سے لے کر مارچ 2021 تک 32.9 ارب ڈالر کے مجموعی بیرونی قرضے لیے یں جن میں یوروبانڈز بھی شامل ہیں۔ 76فیصد قرضے (25 ارب ڈالر ) بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے لیے گئے۔
آئی پی آر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ جس کا پاکستانی معیشت کو سامنا ہے وہ غیرملکی قرضوں کی واپسی اور ان پر سود کی ادائیگی ہے۔ بڑی مقدار میں ادائیگی کے باوجود قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ توازن ادائیگی کی سپورٹ کے لیے استعمال کیا جائے تو بیرونی قرض بوجھ بن جاتا ہے۔

بھاری غیرملکی قرضوں کی وجہ سے معیشت موجودہ کم شرح نمو کی سطح، محدود برآمدات کے ساتھ دیوالیہ ہوجانے کے قریب ہی رہے گی کیوں کہ حکومتی آمدن کا زیادہ حصہ قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے اور معاشی ترقی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے کم رقم بچتی ہے۔
اقتصادی امور ڈويژن کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری 3 ارب 11 کروڑ ڈالرز کا بیرونی کمرشل قرض موصول ہوا۔

ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے بھی 1ارب 35 کروڑ ڈالرزکا قرضہ لیا گیا۔ چین نے پاکستان کو سیف ڈپازٹس کی مد میں 1 ارب ڈالرز فراہم کئے۔ بیرونی ادائیگیوں کے بعد حکومت کو نیٹ قرض کی مد میں 3 ارب ڈالرز ملے۔ رپورٹ کےمطابق 7 ماہ کے دوران حکومت نے 4 ارب 12 کروڑ ڈالرز کا بیرونی قرضہ واپس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.