جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نہ صرف سیاسی استحکام کی کمی ہے بلکہ معیشت بھی بہتری کی راہ پر نہیں ہے۔ ان کے مطابق، نہ تو آئین محفوظ ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ، جس کی وجہ سے ہر ادارہ اپنی طاقت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔مولانا فضل الرحمان نے جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کی دلچسپی کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ذریعے ریونیو میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہترین امن و امان کے بغیر کاروبار کے امکانات محدود ہیں، مگر بدقسمتی سے پاکستان اس معاملے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مسلح گروہوں کی موجودگی اور سٹریٹ کرائم کی صورت حال نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں بے چینی کی فضا قائم ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت ملک کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے، اور بنیادی چیزوں میں امن و امان اور خوشحال معیشت شامل ہیں۔ انہوں نے انسانی جان و مال کے تحفظ کو سب سے اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ حالات بزنس کمیونٹی کی معیشت میں کردار ادا کرنے کی خواہش کے باوجود پیچیدہ ہیں۔فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کی بہتری کے لیے سیاسی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، لیکن یہ تبدیلیاں مخصوص سیاسی مفاد کے لیے نہیں ہونی چاہئیں۔ ان کا اصرار تھا کہ لوگوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنا اور ملک و قوم کی ضروریات کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔انہوں نے منصفانہ انتخابات کی ضرورت پر بھی زور دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اگر ملک میں شفاف انتخابات نہیں ہوئے تو موجودہ حالات میں بہتری کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ مولانا فضل الرحمان نے اختتام پر کہا کہ حکومتوں کی تشکیل کی کہانیاں وقت کے ساتھ سامنے آتی رہیں گی، اور ان کے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

Shares: