شانِ پاکستان
تحریر: محمد اطہر فتح پوری
پاکستان، سرزمینِ منیرِ امن و اتحاد۔۔۔ پاکستان، ایک ایسا خواب جو حقیقت میں بدلا، ایک ایسی سرزمین جو لاکھوں قربانیوں کے بعد وجود میں آئی، جس کا جغرافیہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہی نہیں بلکہ اس کی تاریخ اور ثقافت بھی رنگین اور عمیق ہے۔ اس کی شان صرف اس کی جغرافیائی حدود میں نہیں، بلکہ اس کے نظریے، ثقافت، تاریخ اور عوام کی جدوجہد میں مضمر ہے۔

برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن کا خواب دیکھا تاکہ وہ اپنے دین، ثقافت اور روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا:”پاکستان کا مطلب صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جہاں ہم اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔”

علامہ اقبال نے 1930ء میں الہٰ آباد کے خطبے میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا تصور پیش کیا، جو بعد میں پاکستان کی بنیاد بنا۔ پاکستان کا قیام 14 اگست 1947 کو ہوا۔ یہ وہ دن تھا جب ایک خودمختار اسلامی جمہوری ریاست کی صورت میں نئے عہد کی بنیاد رکھی گئی، جس نے مشعلِ راہ بن کر ایشیا اور اس سے آگے کے خطوں میں اقلیتوں کے حقوق اور برابری کی ریاست کی امید جگائی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے الفاظ آج بھی دلوں کو جنجھوڑ دیتے ہیں:
"قیادت ایمان ہے، رہبر وہی ہے جس کے دل میں ہمدردی، یقین اور خلوص ہو۔”

پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی عمل نہیں تھا، بلکہ یہ لاکھوں مسلمانوں کی ولولہ خیز قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ 1947ء کی تقسیم کے دوران لاکھوں افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، بے شمار خاندان بے گھر ہوئے، لیکن ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔

خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔

پاکستان مختلف ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا گہوارہ ہے۔ پاکستان کا سیرنگ نظارہ اپنی سرائیکی مٹی سے لے کر پشتون پہاڑوں تک، بلتستان کی وادیوں سے سندھ کے میدانی علاقے تک، اور بلوچستان کے ریگستان سے کوہ ہمالیہ کے ٹھنڈے پہاڑوں تک پھیلا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کے چشمے جیسے شیشے کی چادر پہ بہی دودھ کی لکیریں ہوں۔ سوات و وادیٔ کاغان کی وادیاں جیسے برف کے ہونٹوں سے چمکتی ہوئی نیلم کی روشنی منعکس کر رہی ہوں۔ سندھ کی سرسبز دھان کی کھیتیاں اور پنجاب کی ہریالی ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے بہار اپنا جوبن کا سبز رنگ کھولے ہوئے مسکرا رہی ہو۔ بلوچستان کی سنگلاخ چٹانیں ایسا نظارہ پیش کرتی ہیں جیسے وقت نے اپنی کہانی کندہ کر دی ہو۔ یہ طرح طرح کے مناظر نہ صرف دل کو چھوتے ہیں بلکہ اپنی شان و عظمت کے جلوؤں کا ایسا اعتراف کرواتے ہیں گویا قدرت نے یہاں اپنے پورے ڈبے سے رنگ بکھیر دیے ہوں۔ ہر خطہ ایسا کہ جیسے کسی مصور کی بے نظیر و شاہکار مصور گری ہو، جس میں ہر رنگ اپنی داستان بیان کرتا ہے۔ اس کی مختلف زبانیں اور مختلف روایات اس کی ثقافتی ورثے کی نمائندہ ہیں۔ اس کا یہی تنوع ہماری طاقت ہے، جو ہمیں ایک مضبوط قوم بناتا ہے۔

ہماری قوم کی طاقت کا ایک مظہر وطنِ عزیز کی عسکری قوتیں بھی ہیں۔ ہماری مسلح افواج نے ہمیشہ ملک کی خودمختاری کا دفاع کیا ہے۔ کئی مواقع پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ عالمِ دنیا انگشت بدنداں ہوئی، جیسے کہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن کو پسپا کیا۔

اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔

شانِ پاکستان صرف خوبصورتی یا تاریخ تک محدود نہیں، بلکہ یہ جدیدیت اور ترقی کی راہوں پر بھی رواں دواں ہے۔ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں تجارت و صنعت، ٹیکسٹائل و زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، صحت و توانائی، ادبی و تعلیمی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی اپنے اپنے محور میں رہ کر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی پراجیکٹس جیسے سی پیک (چائنا–پاکستان اکنامک کوریڈور) نے پاکستان کو خطے میں معاشی مرکز کی حیثیت دی، ٹرانسپورٹ و توانائی کے شعبے میں نئے امکانات کھولے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی راہ پر چل کر پاکستان ایٹمی قوت بنا۔ 1998ء میں ایٹمی تجربات کے ذریعے دفاعی خود انحصاری میں ایک ایسا سنگ میل عبور کیا جس نے قوم کی جواں مردی اور حوصلہ کو ثابت کیا۔ اس کی تجارت و صنعت، ٹیکسٹائل و زراعت اور ڈیجیٹل سروسز اور دیگر پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی معیار پر پہنچ چکی ہیں۔

پاکستان کے نوجوان، جو "ٹیلنٹ فیکٹری” کی طرز پر ہیں، ہر شعبے میں اپنی لگن، تعلیم، اور جدّت سے ملک کا چہرہ روشن کر رہے ہیں: اسٹارٹ اپ کلچر، ٹیک انقلاب، فنانس، زرعی ٹیکنالوجی، ای-کامرس میں نئی لہریں۔۔۔

نوجوانوں سے ہے ملک کی تقدیر وابستہ
ان کے ہاتھوں میں ہے پاکستان کی باگ ڈور۔

ادبی حلقوں میں نئے شعری تجربے، افسانہ نگار اور ناول نگار کی ابھرتی ہوئی نسلیں عالمی منظر پر پاکستانی زبان و کہانی کو اجاگر کر رہی ہیں، یعنی ہر آنے والا دن پاکستان کو نئے امکانات سے روشناس کراتا ہے۔

الغرض پاکستان نے مختلف شعبہ جات میں کافی قابلِ ذکر ترقی کی ہے، لیکن ابھی بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں مزید اصلاح و بہتری کی ضرورت بہر حال موجود ہے۔ ہمیں مل کر ان مسائل کا حل کے لئے جہدوجہد کرنی ہو گی تاکہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں سر فہرست ہو سکے۔

ملکِ عزیز ایک احساس، ایک جذبہ، اور ایک روایت ہے۔ "شانِ پاکستان” کا مفہوم اس کے لوگ، اس کی زبان، اس کا کلچر، اس کی کامیابیاں اور اس کا مستقبل سب کچھ محیط ہے۔ ایک شاعر نے خوب کہا:

راہِ عشق میں ہم نے کِیا استغنا
تو جو نصیب ہوا خوابِ روشنی سا!

"شانِ پاکستان” محض لفظ نہیں بلکہ ایک جامع، تحقیقی حقیقت ہے۔ تاریخی اصول، جغرافیائی شاندار مناظر، سماجی و ثقافتی تنوع، اقتصادی ترقی، اور مستقبل کے روشن امکانات۔۔۔ یہ سب مل کر اسے ایک ایسی شے بناتے ہیں جو واقعی انعام کی حقدار ہے۔

پاکستان ایک نعمت ہے، ایک خواب کی تعبیر ہے، ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ اس کی شان کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیں اتحاد، ایمان اور قربانی کے جذبے کو زندہ رکھنا ہوگا۔

خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو۔

Shares: