مجھے احتساب عدالت میں پیش ہونا چاہیے یا نہیں؟ مریم نواز نے مانگی عوام سے رائے

پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ میری پریس کانفرنس میں تمام سازشیں بے نقاب ہونے کے بعد گھبراہٹ میں حکومت نے میرے خلاف ایک اور مقدمہ قائم کردیا ۔


باٹی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ میں عوام سے پوچھتی ہوں کہ میرے سوالات کے جواب ملنے کی بجائے کیا مجھےاس NAB میں پیش ہونا چاہیئے جو آڈیو/ویڈیو کے زریعے یرغمال ہو؟


انہوں نے لکھا ہے کہ آپ سے مشورہ چاہتی ہوں کہ مجھے ایک ثابت شدہ انتقام کے سامنے پیش ہونے کا بائیکاٹ کرنا چاہیئے یا پیش ہو کر NAB عدالت میں کھڑے ہو کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دینا چاہئے ؟ بلانا ہے تو اپنے رسک پر بلانا! میری باتیں نا سن سکو گے نہ سہ سکو گے! یہ نا ہو کہ پھر سر پیٹتے رہ جاؤ!

واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر مریم نواز کو احتساب عدالت نے نوٹس جاری کر دیا گیا۔ احتساب عدالت نے مریم نواز کو 19 جولائی کو طلب کرلیا۔ نیب نے مریم نواز کیخلاف جعلی دستاویزات پر ٹرائل کیلئے درخواست دی۔ نیب کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی پیش کردہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ثابت ہوئی۔
واضح رہے کہ 5 جولائی 2018 کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 برس قید بامشقت، مریم نواز کو 7 برس قید جب کہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ 19 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ مریم نواز کو پارٹی میں عہدہ ملنے پر الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی نے دارخوست دائر کر رکھی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.