پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مونس الٰہی کے خلاف گجرات میں درج قتل و معاونت کا مقدمہ خارج کردیا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت نے مونس الٰہی کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ واپس لے لیا، مقدمے کے مدعی اور گواہان نے عدالت میں بیان حلفی جمع کرا دیے۔مونس الٰہی کی والدہ بیگم قیصرہ الٰہی نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ برس مونس الہی کو منی لانڈرنگ مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا، ایف آئی اے نے چالان میں سابق وفاقی وزیر سمیت 6ملزمان کو اشتہاری قرار دیا تھا۔2023 میں ایف آئی اے نے مونس الٰہی پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کروایا تھا، ایف آئی اے کی جانب سے مقدمے میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مونس الہٰی نے بطور وفاقی وزیر آبی ذخائر منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کی اور کروڑوں روپے رشوت کی مد میں وصول کیے، انہوں نے کرپشن اور رشوت ستانی سے کمائی گئی رقم کی منی لانڈرنگ کی اور فرنٹ مین کے ذریعے اپنی فیملی اور دیگر ملزمان کے اکاؤنٹس میں رقوم جمع کرائیں۔22 جولائی کو لاہور کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق وفاقی وزیر مونس الہٰی کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔بعد ازاں اس مقدمے میں مونس الٰہی کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے تھے۔
کراچی کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان