مزید دیکھیں

مقبول

پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر 28 ماہ میں فراہم کیے جائیں گے۔آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن...

صدر مملکت سے وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات

صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر اعلیٰ...

اسرائیل کی غزہ پر بمباری، خواتین و بچوں سمیت 50 شہید

اسرائیل کی غزہ میں وحشیانہ بمباری سے خواتین...

مسلمانوں کی جائیداد پر قبضے کامودی سرکار کا منصوبہ، وقف ترمیمی بل پیش

بھارت میں مسلمانوں کی کھربوں روپے کی وقف املاک کو ہڑپنے کے لیے مودی حکومت نے ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے جسے "وقف ترمیمی بل” کہا جا رہا ہے۔ اس بل کو بھارتی لوک سبھا میں پیش کیا گیا ہے اور اس پر کانگریس کے ارکان نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔

راہول گاندھی، کانگریس کے رہنما، نے اس بل کو مسلمانوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "وقف ترمیمی بل” کا مقصد مسلمانوں کو پسماندہ کرنا اور ان کے جائیداد کے حقوق کو غصب کرنا ہے۔ راہول گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے آئین پر کیا جانے والا یہ حملہ دراصل مسلمانوں پر حملہ ہے، جو بھارت کے آئین کی بنیادی روح کو پامال کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بل مستقبل میں دوسری برادریوں کو بھی نشانہ بنانے کی مثال بنے گا، جو ایک نیا خطرہ ہے۔

اس بل کے حوالے سے بھارت کے مختلف مسلم تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے اس بل کے خلاف آندھرا پردیش میں ایک دھرنا بھی دیا گیا ہے،یہ بل مسلمانوں کی وقف املاک پر حکومت کے اختیار کو مزید بڑھاتا ہے اور اس کے ذریعے حکومت کو مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی املاک کو اپنے کنٹرول میں لانے کا موقع ملے گا۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس بل کا مقصد ان کی جائیدادوں کو غیر قانونی طور پر قبضہ کرنا اور ان کی حیثیت کو کم کرنا ہے۔

اس بل کے پیش کیے جانے کے بعد بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، جس میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرنے والے رہنماؤں اور تنظیموں نے اس پر سخت اعتراض کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے اس بل کو مسلمانوں کے مفادات کے خلاف قرار دینے والوں کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے اپنا قدم مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔اس وقت بھارت میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس بل کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ اس بل کو واپس لیا جائے تاکہ ان کی جائیدادوں کی حفاظت کی جا سکے۔

بھارتی شہر حیدرآباد کے رکنِ پارلیمان اسد الدین اویسی نے بھارتی لوک سبھا سے منظوری کے لیے پیش ہونے والا متنازع وقف ترمیمی بل احتجاجاً پھاڑ دیا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی لوک سبھا میں گزشتہ روز بحث و مباحثے کے بعد حکمراں جماعت بی جے پی کی جانب سے پیش کیا گیا متنازع وقف ترمیمی بل منظور کر لیا گیا،بھارتی حزبِ اختلاف میں شامل اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ اگر چندرابابو نائیڈو، نتیش کمار، چراغ پاسوان اور جینت چوہدری اس بل کی حمایت کرتے ہیں، تو وہ سیاسی وجہ سے ایسا کریں گے، 5 سال بعد جب وہ عوام کے سامنے جائیں گے، تو انہیں کیا جواب دیں گے،انہوں نے بی جے پی کی مندروں اور مساجد کے نام پر بھارت میں تفرقہ پیدا کرنے کی مذموم کوشش کے خلاف پارلیمنٹ میں اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔اسد الدین اویسی نے کہا کہ اگر آپ تاریخ پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ مہاتما گاندھی نے سفید فام جنوبی افریقا کے قوانین کے بارے میں کہا تھا کہ ’میرا ضمیر اسے قبول نہیں کرتا،اور انہوں (مہاتما گاندھی) نے ان قوانین کو پھاڑ دیا تھا، میں بھی مہاتما گاندھی کی طرح اس قانون کو پھاڑ رہا ہوں۔یہ بل غیر آئینی ہے، بی جے پی مندروں اور مساجد کے نام پر اس ملک میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتی ہے، میں اس کی مذمت کرتا ہوں اور میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ جو 10 ترامیم میں نے اس بل میں کی ہیں انہیں قبول کریں۔

ممتاز حیدر
ممتاز حیدرhttp://www.baaghitv.com
ممتاز حیدر اعوان ،2007 سے مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ رہے ہیں، پرنٹ میڈیا میں رپورٹنگ سے لے کر نیوز ڈیسک، ایڈیٹوریل،میگزین سیکشن میں کام کر چکے ہیں، آجکل باغی ٹی وی کے ساتھ بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں Follow @MumtaazAwan