نارنگ منڈی (نامہ نگار: محمد وقاص قمر)نارنگ منڈی شہر اور گردونواح میں آئس سمیت دیگر منشیات کی سرعام فروخت عروج پر ہے۔ منشیات فروش دیدہ دلیری سے اپنا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال کے نتیجے میں نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
شہر میں آئس کے نشے کے ساتھ ساتھ چرس، افیون اور شراب کی فروخت بھی عام ہے۔ منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، اور سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس میں کم عمر نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ منشیات فروشوں کی چاندی ہو چکی ہے اور وہ بغیر کسی خوف کے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
منشیات کی روک تھام کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے پر شہریوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ وہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ روزانہ نئے لوگ اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں، اور کئی ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ پولیس منشیات فروشوں کو پکڑنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ پولیس کی اس ناکامی پر شہری برہم ہیں۔ اہل علاقہ نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سمیت تمام سیاسی نمائندوں اور سماجی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور شہر کو منشیات کے اس جال سے نجات دلائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پورا شہر اس نشے کی لعنت میں جکڑ جائے گا۔