fbpx

ناسا کا مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ سےآکسیجن تیار کرنے کا کامیاب تجربہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مریخ پر بھیجے جانے والے مشن پرسیورینس نے 20 اپریل کو پرسیورینس نے مریخ کے ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اکٹھا کرکے اسے سانس لینے کے قابل آکسیجن میں تبدیل کردیا۔

باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق پرسیورینس میں ایک ایسا انسٹرومنٹ ( مارش آکسیجن) نصب ہے جسے اس تجربے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس ٹوسٹر سائز ٹول سے اس مشن کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکیولز سے آکسیجن ایٹمز کو الگ کرنا ممکن ہوا، جس کے لیے گیس کو لگ بھگ 1470 ڈگری فارن ہائیٹ پر گرم کرکے کاربن مونوآکسائیڈ کو تیار کیا گیا۔

انسٹرومنٹ کے پہلے تجربے کے دوران 5 گرام آکسیجن تیار ہوئی، جس سے ایک خلا باز کو 10 منٹ تک انے اسپیس سوٹ میں 10 منٹ تک سانس لے سکتا ہے۔

ناسا کے مطابق تجربے کی کامیابی سے مستقبل کے مشنز کے لیے ایک نیا ذریعہ کھل گیا ہے بالخصوص ایسے مشنز جن میں انسانوں کو راکٹوں میں مریخ میں بھیجا جائے گا، جہاں انہیں آکسیجن کی ضرورت ہوگی۔

مثال کے طور پر مریخ پر 4 انسانوں کو لے جانے والے راکٹ میں 55 ہزار پاؤنڈ آکسیجن بھیجنے کی ضرورت ہوگی، مگر مریخ تک اتنی زیادہ مقدار میں آکسیجن بھیجنا ممکن نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے مستقبل کے مشنز کے لیے سرخ سیارے کی کھوج زیادہ آسان ہوسکے گی۔

یہ پہلی بار ہے جب زمین سے باہر کسی جگہ آکسیجن کو تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل مریخ میں زمین سے باہر پہلی بار ایک ہیلی کاپٹر کی پرواز میں کامیابی حاصل کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ناسا کا یہ پرسیورینس روور روبوٹ سرخ سیارے پر مائیکربیل (microbial) زندگی کے آثار کی تلاش کا کام کرے گا۔

مریخ پر لینڈنگ 2.7 ارب ڈالر اور 2 سالہ کوششوں کا خطرناک ترین منصوبہ تھا جس کا بنیادی مقصد ان مائیکروبز کے ممکنہ آثار کو کھود کر تلاش کرنا ہے جو 3 ارب برس قبل مریخ پر موجود تھے، جب نظام شمسی کا چوتھا سیارہ سورج سے زیادہ گرم ، نم اور زندگی کے لیے ممکنہ طور پر سازگار تھا۔

پرسیورینس کیا ہے؟

مریخ پر مشن کا ایک اہم مقصد علم نجوم ہے ، جس میں قدیم مائکروبیل زندگی کی نشانیوں کی تلاش بھی شامل ہے۔ یہ روور سیارے کی ارضیات اور ماضی کی آب و ہوا کی خصوصیات بنائے گا ، لال سیارے کی انسانی تلاش کے لئے راہ ہموار کرے گا ، اورٹوٹی ہوئی چٹان اور دھول کو جمع کرنے اور اس میں تجربہ کرنے کا پہلا مشن ہوگا۔

اس کے نتیجے میں ناسا کے مشنز ، ESA (یورپی اسپیس ایجنسی) کے تعاون سے مریخ پر خلائی جہاز بھیجیں گے تاکہ ان مہر بند نمونوں کو سطح سے جمع کریں اور گہرائی سے تجزیہ کرنے کے لئے انہیں زمین پر واپس بھیجیں مریخ 2020پرسیورینس مشن ناسا کے چاند تا مریخ کی تلاش کے نقطہ نظر کا ایک حصہ ہے –

سائسدانوں کو امید ہے کہ وہ اس قدیم مقام سے زندگی کے نمونوں کو تلاش کرسکیں گے اور پرسیورینس کو مریخ سے پتھر کھوج نکالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں زمین پر ان کا تجزیہ کیا جاسکے۔

جو انسانوں کی جانب سے کسی دوسرے سیارے سے پہلی مرتبہ جمع کیے جانے والے پہلے نمونے ہوں گے۔

جنوبی کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری ، جو کیلیفورنیا کے پاسادینا میں کیلٹیک کے ذریعہ ناسا کے لئے منظم کی گئی ہے ، اور اس نے پرسیورینس روور کی کارروائیوں کا انتظام کیا۔

مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر’انجینیٹی‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.