نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

ہر سال پاکستان میں ذی الحجہ کے آخری دن، محرم مکمل اور صفر کے کچھ دن کچھ لوگوں کو بالکل آزادی دی جاتی ہے کہ وہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں زبانیں دراز کریں اور وطن عزیز میں امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں. عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی بات پر مذہبی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران پر عرصہ حیات تنگ کرنے والا "نیشنل ایکشن پلان” ان دنوں میں بھنگ پی کر سو جاتا ہے. اہل تشیع علماء کے مطابق جس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کیا کہ اہل تشیع جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں بکواس کرنے والے ذاکر "آصف” پابندی تھی تو اس کو کس نے آزادی دی بولنے کی، کس نے اس کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اس کو جرات دی کہ وہ انبیاء کرام کے بعد کائنات کی مقدس ترین ہستیوں پر زبان طعن دراز کرے. کیا نیشنل ایکشن پلان اس کے سہولت کاروں کا تعین کرکے ان کو ویسے ہی نشان عبرت بنائے گا ؟ جیسے مذہبی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کا نشان عبرت بنایا گیا.
اس کے بعد کراچی میں ایک جلوس کے دوران پھر سے یہی عمل دہرایا گیا جس کو ایک نجی ٹی وی چینل نے براہ راست دکھایا لیکن "نیشنل ایکشن پلان” اسلام آباد کے کسی کلب میں سویا رہا. ان واقعات پر اہل السنہ والجماعة کی جماعتیں سیخ پا ہوئیں اور ردعمل کے طور پر کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا دفاع کیا جائے اور ان پر تبراء پر قانونی پابندی ہونی چاہیے لیکن تاحال کوئی ایکشن یا قانون سازی کا دور دور تک امکان نہیں ہے. جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے سے واپس لوٹنے والوں پر مری کے مقام پر شرپسند عناصر جو مبینہ طور پر صحابہ کرام کی گستاخیوں پر آمادہ رہتے ہیں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس پر "نیشنل ایکشن پلان” تاحال گہری نیند میں ہے.
میں سمجھتا ہوں اس میں جہاں ملکی ادارے ذمہ دار ہیں وہیں پر اہل السنہ والجماعة کی تمام جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں جو سواد اعظم ہونے کے باجود ملکی کی اسمبلیوں سے صحابہ کرام کی ناموس کے تحفظ کے بل پاس کروا سکیں.
ملکی اداروں اور ذمہ داران کو بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام کی ناموس پر حملے یہ وہ دروازہ ہے جو اگر بند نہ کیا گیا تو ملک میں امن و امان اک خواب بن جائے گا جس کا متحمل ہمارا ملک نہیں ہوسکتا کہ بڑے قربانیوں کے بعد ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ہمارے شہروں میں سکون ہے معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں ایسے میں اسلام ہم تک پہنچانے والوں صحابہ کرام پر ہی سوالات اٹھا دینا ملک کو فرقہ واریت کی شدید آگ میں دھکیلے گا.
محمد عبداللہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.