2024ء کی آمد آمد ہے الیکشن کمیشن نے قومی انتخابات کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ نوازشریف نے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ لندن سے واپسی پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئے سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ نوازشریف کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ دیہی علاقوں میں عوام کی اکثریت کان لیگ میں شامل ہونا نوازشریف کی ووٹروں پر مسلسل گرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس گرفت کا سہرا ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کی سیاست اور مقبولیت کو کم نہیں ہونے دیا پابندیوں کے باوجود وہ اپنے والد کا مقدمہ گلی کوچوں بازاروں میں پہنچاتی رہی۔

بلاشبہ نواز شریف کے دور حکومتوں میں پاکستان نے حقیقی ترقی کی تھی معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں بڑے بڑے میگا پراجیکٹ موٹرویز، ایرپورٹ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوطی میں بھی نوازشریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ملک کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

بلاشبہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کا دبائو رہتا ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے ملکی سلامتی کے ذمہ دار پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو لے کر چاک و چوبند ہیں۔ چین اور امریکہ کے اپنے اپنے مفادات ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے ذمہ داران ریاست کے بھی اس ملک کی سلامتی اور بقا کے مفادات ہیں اس سلسلے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کی قربانیوں کو فراموش میں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پاک فوج ملک کو 1971ء کے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کی علیحدگی ہوئی۔ افسوس صد افسوس ملک میں رہنے والے بعض دانشور، سیاسی تجزیہ نگار، سوشل میڈیا پر عمران خان کی محبت میں ملکی سلامتی اور بقا کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں۔ بلاشبہ عمران خان مقبول سیاسی لیڈر ہیں مگر وہ ہوش نہیں جوش سے کام لینے والے لیڈر ہیں۔ سیاست میں بردباری اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

Shares: