سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو اینٹی منی لانڈرنگ کے اختیارات بھی مل گئے،جسکےبعدNCCIA نے سعد الرحمان (ڈکی) کے خلاف منی لانڈرنگ انکوائری کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

این سی سی آئی اے نے آن لائن / جوا / فاریکس / انوسٹمنٹ ایپس کی تحقیقات کا دائرہ بڑھاتے ہوئے- ٹھوس شواہد حاصل کرنے کے لئے اور ملوث سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والوں کوطلب کر لیا-

معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی نے اعتراف جرم کیاانہیں آن لائن بیٹنگ ایپس اور سٹے بازی کی تشہیر کے معاملے میں 16 اگست کو گرفتار کرکے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کیا گیا تھا یوٹیوبر نے عدالت کے باہر میڈیا سے پہلی بار گفتگو کرتے ہوئے ناصرف اعتراف جرم کیا ہے بلکہ اپنے جرم پر معافی بھی مانگی کہاتھاکہ میں روسٹنگ کے زمانے سے روسٹنگ ویڈیوز بناتا تھا جو کہ ایک غیر اخلاقی کام ہے جس پر میں پوری قوم سے معافی مانگتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے کچھ ایپس کی تشہیر کی پیشکش کی گئی، جس کی میں نے تصدیق کیے بغیر تشہیر کی، کیونکہ مذکورہ ایپس ٹی وی پر، بالخصوص پی ایس ایل میچز کے دوران بہت عام تھیں اس لیے میں نے ان کی تصدیق نہیں کی گویا یہ قانونی ہیں یا نہیں، اس پر بھی میں معافی چاہتا ہوں۔

نیشنل کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے یوٹیوبر ڈکی بھائی کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتارکیاتھا ڈکی بھائی بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے تھے تاہم ان کا نام پہلے ہی پی این آئی ایل فہرست میں شامل تھا جس کے باعث انہیں ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیانیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے ڈکی بھائی کے اثاثوں کی چھان بین کا آغاز کرتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا ، ملزم سے جدید موبائل فون برآمد کرکے مشکوک واٹس ایپ نمبرز اور ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔ ملزم سے غیرقانونی ادائیگیوں اوربائنومو پروموشن کے ثبوت بھی برآمد ہوئے ہیں، ڈکی بھائی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتا رہا۔ ملزم بیرون ملک فرار ہورہا تھا۔

واضح،رہےکہ،وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ کر دیاسائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو اینٹی منی لانڈرنگ کے اختیارات بھی مل گئےاین سی سی آئی اے کو تحقیقاتی و پراسیکیوٹنگ ایجنسی قرار دے دیا گیا ہے،ینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے شیڈول ون میں مزید ترمیم کرکے شق 15 شامل کردی گئی ہےجس میں مختلف جرائم سے متعلقہ شقیں شامل ہیں۔

سائبر ٹیرارزم، الیکٹرانک فراڈ، شناختی معلومات کا غیر قانونی استعمال کی شقیں شامل ہیں،سم کارڈز کا غیرقانونی اجرا، چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق شقیں ایکٹ میں شامل ہیں،بچوں کی ہراسکگی کو کمرشلائز کرنا، انفارمیشن سسٹم کو بچوں کے اغوا میں استعمال کی شق شامل ہیں،جھوٹی اور فیک معلومات پر سزا کی شق بھی شامل کردی گئی ہے۔

Shares: