یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

ہماری جنریشن کا مسئلہ یہ کہ ہماری جنریشن کا اب ایک ایک لمحہ محفوظ ہو رہا ہے ۔ میرے دادا، پردادا کا اپنے وقتوں میں کیا اوڑھنا بچھونا رہا یا ان کے نظریات و خیالات کیا تھے مجھے کچھ نہیں پتہ لیکن میرے نواسی نواسے اور پوتا پوتی میری ایک ایک دن کی حرکات و سکنات کو دیکھ سکیں گے ۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے بزرگوں میں سے کس نے کس مقام پر ٹھوکر کھائی اور جدوجہد کر کے کھڑا ہوگیا یا کون سے چاچے مامے انقلابات زمانہ سے ڈر کے بیٹھ گئے اور کشمکش حیات سے فرار کی راہیں اختیار کر لیں ۔
ہمارے لئیے تو بڑا مسئلہ ہمارا یہ ورچوئل ہمزاد ہے جو دنیا بھر کے مختلف کمپیوٹرز میں تشکیل پا رہا ہے ۔ میری لوکیشن ، میرے اسٹیٹس ، میرے خیالات سب کچھ ہی Google , Amazon, Ali baba ، یوٹیوب ، فیس بک ، گوگل کروم اور وغیرہ وغیرہ کے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ ہو رہا ہے ۔ انھی ڈیٹا کو پڑھنے والے Algorithm ہی ہماری preferences کی بنیاد پر یوٹیوب سے لیکر فیس بک پر ویڈیوز اور اشتہارات کو ہماری اسکرین پر چلنے والی ویڈیوز میں گھماتے ہیں ۔ آنے والے وقتوں میں موبائل میں لگے کیمروں سے آپکے چہرے کے تاثرات پڑھ کر آپ کو آپ کی ہی اسکرین پر گھماتے پھراتے ، فیس بک یو ٹیوب کی سجیشن کے ذریعے انھی اشتہارات سے لیکر انھی ویڈیوز تک پہنچادیا جائے گا جو یا آپ دیکھنا پسند کرتے ہوں گے یا مارکیٹنگ کمپنیاں آپکو دکھانا چاہتی ہوں گی ۔

تو ایسے میں ہمارا چھوڑا ہوا یہ ڈیجیٹل ورثہ ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے ہماری ساری پول پٹیاں کھول کر رکھ سکتا ہے کہ لگڑ دادا زیادہ وقت پورن سائیٹس پر سرفنگ میں یا خواتین کو رجھانے والے اسٹیٹس لگانے میں لگاتے تھے یا زیادہ وقت کتابوں اور سیاحت میں گزارا کرتے تھے ۔ زمانے کی رو کے ساتھ بہتے چلے جاتے رہے یا اپنا کوئی فریش content بھی تھا ۔ خیالات فارورڈ لنکنگ تھے یا ماضی گزیدہ اور اسلاف پرستانہ ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اچھی مثالیں ، اچھے خیالات و جذبات ، عقل و دانش پر مبنی تحریں اور ویڈیوز چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر پڑھ کر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں یا ایسا ڈیجیٹل ترکہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جس کو آنے والی نسلیں ڈیلیٹ فرام دا اسٹارٹ پر لگانا چاہیں ۔

کیونکہ جب روبوٹس انسان کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے لگے ہیں تو کون جانے کہ آنے والے ہزار دو ہزار سال بعد لوگ اپنے بچوں کے لئیے یا خود تنہائی کا مارا کوئی فرد اپنے لیے ایک دادا روبوٹ یا ایک نانی روبوٹ بھی بنوانے کے قابل ہوجائے ۔ جو ظاہر ہے کہ کسی حقیقی دادا نانا کی طرح consious being تو نہیں ہوگا لیکن اس کی ایک ڈیجیٹل ورچوئل یا روبوٹک کاپی تو ہوگا ۔ ہوگا تو انسان نہیں لیکن ہوگا کچھ نہ کچھ تو کمی پوری ہوگی جیسے آج ہم اپنے بچوں کو ان کے دادا پر دادا کی تصویریں دکھا کر ہی مطمئن ہوجاتے ہیں ۔کیا پتہ کہ آنے والے وقتوں میں لوگ خود اپنی ڈیجیٹل ہسٹری ، ساری زندگی کی آن لائین ایکٹیویٹیز، تھری ڈی ورچوئل ویڈیوز ، چھوٹے چھوٹے ویڈیو مسجز کو خود ہی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کسی CLOUD SERVER یا ڈیٹا سینٹر میں SAVE کرا کر جائیں جنہیں بعد میں آن ڈیمانڈ کسی گوشت پوست سے بنے روبوٹ میں فیڈ کرا دیا جائے اور اس دادا روبوٹ یا نانی روبوٹ یا محبوبہ روبوٹ کو ویسے ہی Behave کرائیں جیسا وہ شخص خود اپنی زندگی میں ان سامنے آنے والے Given circumstance میں Behave کرتا ۔

ہم سے پچھلے والوں کے لیے کم از کم یہ امتحان تو نہیں تھے کہ آنے والی نسلوں کی بھی اسکروٹنی سے گزرنا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن ہاں انہوں نے یہ سہولتیں بھی نہیں دیکھیں جن کا ہم آج مزہ اٹھا رہے ہیں اور جس طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں اس طرح کا چانس ہمارے آباؤ اجداد کے پاس نہیں تھا ۔ دیکھا جائے تو زندگی تو ہر جنریشن کے لئیے ایک امتحان ہی یے ۔ قدرت نے اگر آپکو لیموں دیے ہیں تو آپ نے زندگی میں کھٹاس ہی بھرے رکھی یا کہیں سے شکر پکڑ کر لیمن کے ساتھ ملا کر اسکا لیمن مالٹ بنا کر انجوائے کر لیا ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے ۔ آیا آپ اپنی صلاحیتوں کی نشونما اور نمود یعنی ان میں اضافہ کرتے ہیں یامقام انسانیت سے نیچے جا کر صرف دو وقت کی روٹی کا حصول اور حیوانی تقاضوں کی تکمیل میں جوڑا بناکر بچے پیدا کر کے مرجانے کو ہی زندگی کا حاصل گردانتے ہیں ۔ فیصلہ ہمارے اور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے ۔
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.