"نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

راجہ محمد سرور شہید :
ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

میجر طفیل محمد شہید :
آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

میجر عزیز بھٹی شہید :
6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

راشد منہاس شہید :
آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


میجر شبیر شریف شہید :
میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


سوار محمد حسین شہید :

سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
میجر محمد اکرم شہید :
آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

کرنل شیر خاں شہید :
آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

حوالدار لالک جان شہید :
گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

سیف علی جنجوعہ :
انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.