آن لائن کمپنیاں پر کشش منافع کا لالچ دے کر لوگوں کو کیسے لُوٹتی ہیں؟

0
70

سائبر کرائم ونگ فیڈرل انویسٹی گیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال چودھری نے ایک ویڈیو پیغام میں آن لائن تجارت اور پُر کشش منافع کا لالچ دے کر عوام کو کولُؤٹنے والے فراڈیوں کا پردہ فاش کر دیا

باغی ٹی وی : سماجی رابطی کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سائبر کرائم ونگ فیڈرل انویسٹی گیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال چودھری نے ایک ویڈیو شئیر کی جس میں انہوں نے آن لائن تجارت اور پُر کشش منافع کا لالچ دے کر عوام کو کولُؤٹنے والے فراڈیوں کا پردہ فاش کر تے ہوئے لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پے ڈائمنڈ اور اس طرح کے دوسری کمپنیاں لوگوں سے کڑوڑوں روپے لوگوں سے ہتھیا چکی ہیں ان کے لالچ میں نہ آئیں


ویڈیو میں انہوں نے دو مشہور کمپنیوں کا ذکر کیا اور ساتھ ہی ان کمپنیوں کے ساتھ منسلک ایک مجرم کو بھی دکھایا گیا جو بتاتا ہے کہ یہ کمپنیاں کیسے کام کرتی ہیں اور لوگوں کو بے وقوف بنا کر لوٹتی ہیں

آصف اقبال چودھری نے اپنی ویڈیو میں آن لائین ٹریڈنگ فراڈ کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے مختلف نام سے کمپنیاں رجسٹرڈ نہیں کروئی ہوتیں لیکن وہ عوام کو بتاتے ہیں کہ یہ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پے ڈائمنڈ کے نام سے کمپنی نے کروڑوں روپے کا فراڈ لوگوں کے ساتھ کیا ان کمپنیوں کے ساتھ منسلک ایک شخص نے بتایا کہ یہ کمپنی 2014 سے کام کر رہی ہے اس میں کام کرنے کے دو طریقے ہیں ایک انویسٹمنٹ پلان اور دوسرا مارکیٹنگ پلان ہے اس شخص نے بتایا کہ وہ لوگوں کو انویسٹمنٹ کا لالچ دیتے ہیں جیسے کہ اگر 200 ڈالر لگاتے ہیں تو پانچ ہفتوں میں پانچ سو ڈالر ملیں گے

آصف اقبال چودھری نے بتایا کہ آجکل کراؤڈ کے نام سے ایک کمپنی کام کر رہی ہی فراڈیئے اپنی پرانی کمپنی کا نام تبدیل کر کے نیا نام رکھ کر دوبارہ سے لوگوں کو پھنسنانا شروع کر دیتے ہیں ان کا ٹارگٹ ایسے لوگ ہعتے ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل یا کاروابر کے لئے 2 یا 4 لاکھ جمع کئے ہوتے ہیں

انہوں نے بتایا یہ لوگ ایسے لوگوں کو لالچ انویسٹمنٹ کا لالچ دیتے ہیں اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ اگرآپ مختلف لوگ لے کر آتے ہیں نئے ممبر بناتے ہی‌ توآپ کو پانچ یا 10 ڈالر ملیں گے اسی طرح کمپیوٹر کے اوپر فراڈ والی ویب سائٹس کھول کر دکھاتے ہیں جن پر لوگوں کے اکاؤنٹس بنے ہوتے ہیں ان پر لوگوں کے پرافٹس دکھاتے ہیں

انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی ان باتوں کے لالچ میں آ کر پیسے دے دیتے ہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم اصف اقبال نے کہا کہ یہ اکاؤنٹس ایک مخصوص عرصے تک نظر آتے رہتے ہیں لیکن جب پیسے واپس کرنے کا ٹائم آتا ہے تو یا تو ویب سائٹص ڈاؤن ہو جاتی ہیں ہا وہ لوگ پیسے لے کر فرار ہو جاتے ہیں

شاباش گجرات پولیس، کھاریاں سے کرونا کا دم کرنے والا جعلی پیر گرفتار

Leave a reply