فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورہ امریکا کے دوران پاکستان کے مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی جب کہ بھارت کا دہشتگردانہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ امریکہ اور برسلز نے پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کیا ہے، یہ ملاقاتیں محض رسمی نوعیت کی نہیں تھیں بلکہ انہوں نے فوجی اور اقتصادی سفارتکاری کی مہارت کا مظاہرہ کیا، جس کا مقصد پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مضبوط کرنا اور قومی مفادات کا تحفظ تھا۔

ان دوروں کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک بڑی پیشرفت بین الاقوامی شراکت داروں سے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کے طور پر قرار دلوانا تھا۔ یہ نہ صرف ان گروہوں کے بارے میں پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی توثیق ہے بلکہ بھارت کی خفیہ پشت پناہی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ جنرل منیر نے اس معاملے کو خطے اور دنیا کی سلامتی کے تناظر میں پیش کر کے پاکستان کے حق میں بیانیہ مضبوط کیا۔

ایکسٹیشن نہیں تسلسل جاری رہے گا، اسد قیصر کے بیان پر فیصل واوڈا کاردعمل

پاکستان کے ٹرمپ سے بڑھتے روابط، بھارت کی تشویش میں اضافہ

معاشی طور پر، یہ دورے ایسے وقت ہوئے جب پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوا، جس کی ایک بڑی وجہ اہم منڈیوں میں بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف کا نفاذ تھا۔ اس سے پاکستانی صنعتوں کے لیے نئی تجارتی راہیں کھلیں اور یہ ثابت ہوا کہ مضبوط سفارتکاری اقتصادی فوائد بھی لا سکتی ہے۔

اسٹریٹیجک محاذ پر، جنرل منیر نے بھارت سے تعلقات، سندھ طاس معاہدے اور انسداد دہشت گردی جیسے اہم معاملات پر پاکستان کا مؤقف واضح اور مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ان کی بات چیت حقائق پر مبنی، درستگی سے بھرپور اور قومی استحکام کے وژن کی عکاس تھی۔

سب سے بڑھ کر، ان سفارتی کامیابیوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سرحدی سالمیت، سیاسی آزادی یا قومی وقار کو کسی بھی خطرے کا سامنا ہوا تو اسے مکمل عزم کے ساتھ ناکام بنایا جائے گا۔ فوجی وقار اور سفارتی مہارت کو یکجا کر کے جنرل عاصم منیر نے پاکستان کو ایک پراعتماد اور خود انحصار ملک کے طور پر پیش کیا ہے—جو ہر میدان میں اپنے مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

اس دورِ تغیر اور علاقائی غیر یقینی صورتحال میں ان کی قیادت نے یہ یقینی بنایا ہے کہ پاکستان کی آواز نہ صرف سنی جائے بلکہ دنیا بھر میں اس کا احترام بھی ہو۔

Shares: