fbpx

پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 112 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے –

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کا ریکارڈ آج پھر ٹوٹ گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 112 افراد انتقال کر گئے –

این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 65 ہزار 279 ٹیسٹ کئے گئے 4 ہزار 976 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 7.62 فی صد رہی۔

پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 15 ہزار 982 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار182 ہو چکی ہے۔

این سی او سی کے مطابق کورونا کے سبب س پنجاب میں 7 ہزار 271 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 541، خیبر پختونخوا 2 ہزار796، اسلام آباد 626، گلگت بلتستان 103، بلوچستان میں 222 اور آزاد کشمیر میں 423 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 68 ہزار665، خیبر پختونخو 1 لاکھ 3ہزاراور419، پنجاب 2 لاکھ 61 ہزار173، سندھ 2 لاکھ 70 ہزار963، بلوچستان 20 ہزار662، آزاد کشمیر 15 ہزار137 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 163 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔

قبل ازیں حکومت کی جانب سے ایس او پیز جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر حکومت کے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے کاربند رہیں۔ ماسک کا استعمال کریں، بار بار ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں۔ گھروں کو ہوادار بنائیں اور بلا ضرورت ہرگز گھر سے باہر نہ نکلیں۔ پُرہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

پنجاب میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دِیا گیا ہے ، ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور جرمانے کے علاوہ چھ ماہ قید بھی ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہن اتھا کہ پنجاب حکومت این سی او سی کی ہدایت پر مکمل عمل کر رہی ہے، صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال خطرناک ہو گئی ہے، گجرات اور گوجرانوالہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی