بھارتی فلم رائٹر جاوید اختر نے بھارت پہنچنے کے بعد پاکستان میں دیئے گئے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

باغی ٹی وی: گزشتہ دنوں لاہور میں ہونے والے فیض فیسٹول کے دوران جاوید اختر نے پاکستانیوں سے متعلق متنازع گفتگو کی تھی،انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں ممبئی پر حملے کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں اگر کوئی ہندوستانی یہ شکوہ کرے تو پاکستانیوں کو بُرا نہیں ماننا چاہیے جاوید اختر کے اس بیان پر پاکستان کی عوام اور فنکاروں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔

اب جاوید اختر نے بھارت میں ایک تقریب کے دوران پاکستانیوں سے متعلق متنازع گفتگو کے حوالے سے ردعمل دیا ہے کہا بیان دینے کے بعد مجھے لگا ایسے ایونٹس میں نہیں جانا چاہیے لیکن یہاں (بھارت) آیا تو لگا پتہ نہیں تیسری عالمی جنگ جیت کر آیا ہوں‘۔

دوسری جانب جہاں شوبز شخصیات نے بھی جاوید اختر کے بیان سے متعلق ناراضگی کا اظہار کیا اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا وہیں پاکستان کے معروف ناول نگار اور کالم نگار مستنصر حسین تارڑ نے بھارتی نغمہ نگار جاوید اختر کے پاکستان مخالف بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں 10ویں لٹریچر فیسٹیول کا آغاز ہو چکا ہے جس میں گفتگو کرتے ہوئے مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ انہیں بھارتی مہمان جاوید اختر کےپاکستان کےخلاف الفاظ سُن کرخود پر شرم محسوس ہوئی انہوں نےکہاکہ وہ جاوید اختر کے فیض فیسٹیول میں کہے الفاظ کو تبصرے کے لائق بھی نہیں سمجھتے۔

معروف ناول نگار کا کہنا تھا کہ مجھ میں ایسی صفت نہیں ہیں کہ میں نوبل انعام کیلئے اپنے معاشرے کو بُرا کہہ سکوں، ان کا کہنا تھا کہ میرے لئے پاکستان کے پرائیڈ آف پرفارمنس نگار اور کمال فن ایوارڈز کسی نوبل پرائز سے کم نہیں۔

پاکستان کے موجودہ حالات کی وجہ سے عوام پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ ہماری قوم پاگل ہوگئی ہے اور برداشت کھو بیٹھی ہے۔

Shares: