اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کثیرالجہتی تنازعات کے پرامن حل سے متعلق اہم مباحثے کا انعقاد نیویارک میں ہوا، جس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی، جس میں عالمی سطح پر جاری تنازعات کو پرامن اور مؤثر مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کی قرارداد کو قابلِ ستائش اقدام قرار دیا اور کہا کہ دنیا میں جاری تنازعات کا حل پرامن اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے خاص طور پر غزہ اور یوکرین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک انسانی المیے ہیں، جن کا فوری حل ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اور متاثرین کو بھوک اور افلاس کا سامنا ہے۔انتونیو گوتریس نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود زیادہ تر تنازعات پیچیدہ نوعیت کے ہیں اور ان کے حل کے لیے کثیرالجہتی مکالمے اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔
کوئٹہ: سیاہ کاری کے الزام میں باپ نے بیٹی اور بھانجے کو قتل کر دیا
روس: انتہاپسند مواد سرچ کرنے پر اب جرمانہ ہوگا، قانون منظور
قطر نے اولمپکس 2036 کی میزبانی کے لیے باضابطہ بولی دے دی