گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر متعدد بھارتی صارفین نے ایک فضائی نقشہ شیئر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے دوران امریکا کو ایران کے حساس مقامات سے خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین نے اس تصویر کو جعلی اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

’آئی ویری فائی پاکستان‘ کی تحقیقاتی ٹیم نے اس دعوے کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد اسے بے بنیاد اور غلط قرار دے دیا ہے۔ ٹیم نے فلائٹ ٹریکنگ کی شیئر کی گئی تصویر کا تفصیلی تجزیہ کیا اور تصدیق کی کہ نقشے میں دکھائے گئے طیارے امریکی فوج سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی نشاندہی کی گئی مقامات درست ہیں۔

تحقیقی عمل کے دوران مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، جس میں طیاروں کی نوعیت، پرواز کا رُخ، اور فضائی نقشے پر موجود معلومات شامل تھیں۔ تجزیے کے بعد واضح ہو گیا کہ یہ تصویر غلط معلومات پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب 13 جون کو ایران میں اسرائیلی حملوں میں تقریباً 80 افراد، جن میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل تھے، شہید اور 300 سے زائد شہری زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں میں فوجی تنصیبات اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے، اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور جاری ہے۔

آئی ویری فائی پاکستان کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے غیر مصدقہ اور اشتعال انگیز مواد پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

اسرائیل کا ایران کے مغرب میں بمباری کا نیا سلسلہ، تہران کے قریب میزائل مرکز تباہ

عالمی سروے: کراچی دنیا کا چوتھا بدترین رہائشی شہر قرار

لیبیا کشتی حادثہ 2025: ایف آئی اے نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا

پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے بینکوں سے ایک ارب ڈالر کا تاریخی معاہدہ

ایران نے اسرائیل جنگ سے متعلق مذاکراتی ٹیم بھیجنے کی خبروں کو مسترد کر دیا

Shares: