پاکستانی فلم ’زندگی تماشا‘ آسکر ایوراڈز کے لئے نامزد

پاکستانی اداکار و ڈائریکٹر سرمد کھوسٹ کی متنازع فلم ’زندگی تماشا‘ کو 93ویں اکیڈمی ایوارڈ کی بین الاقوامی کیٹیگری کے لیے نامزد کرلیا گیا ہے۔

باغی ٹی وی : فلم ‘زندگی تماشا’ کو پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے آسکر ایوارڈز کی بین الاقوامی فلم کیٹیگری کے لیے منتخب کیا گیا ہےاس فلم کا ورلڈ پریمیئر 2019 میں بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا گیا تھا جہاں ‘زندگی تماشا’ نے اعلیٰ ترین ’کم جیسوئک‘ ایوارڈ جیتا تھا۔

خیال رہے کہ فلمی دنیا کے سب سے متعبر اور اعلیٰ فلمی ایوارڈ آسکر کے لیے پاکستانی فلموں کا انتخاب کرنے والی پاکستانی آسکر سلیکشن کمیٹی میں رواں برس ڈائریکٹر اسد الحق، اداکارہ مہوش حیات اور موسیقار فیصل کپاڈیہ، شرمین عبید چنائے اور نامور فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین (ایچ ایس وائے) شامل تھے۔

مہوش حیات اور حسن شہریار یاسین آسکر سیلیکشن کمیٹی 2020 کا حصہ بن گئے

بین الاقوامی کیٹیگری کی نامزدگی کا فیصلہ اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنس کی جانب سے آئندہ برس کیا جائے گا۔

سرمد کھوسٹ کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم میں ایمان سلیمان، عارف حسین اور سامیہ ممتاز نے مرکزی کردار نبھایا فلم اپنے ٹریلر کے جاری ہونے کے بعد ہی تنازع کے شکار ہوئی مذہبی جماعت نے فلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد فلم ساز نے ابتدائی طور پر فلم کا ٹریلر یوٹیوب سے ہٹایا تھا جبکہ بعد ازاں حکومت نے فلم کی نمائش بھی روک دی تھی۔

اگرچہ فلم سینسر بورڈ نے ابتدائی طور پر فلم کو ریلیز کے لیے کلیئر قرار دیا تھا تاہم مذہبی جماعت کے احتجاج کے بعد وفاقی حکومت نے فلم کی نمائش روکتے ہوئے معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

سینٹ نے فلم ’زندگی تماشا‘ کو کورونا بحران کے بعد ریلیز کرنے کی اجازت دے دی

فلم کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوائے جانے کے بعد سینیٹ کی انسانی حقوق سے متعلق ذیلی کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فلم کا جائزہ لیا اور بعد ازاں کمیٹی نے فلم کو ریلیز کے لیے کلیئر قرار دیا تھا۔

اس کی نمائش روکے جانے اور مذہبی تنظیم کی جانب سے فلم کے خلاف مظاہروں کی دھمکیوں کے بعد فلم ساز سرمد کھوسٹ نے لاہور کی سول کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی۔

’زندگی تماشا‘ پر مذہبی افراد کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جب کہ فلم ساز ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ فلم کی کہانی ایک اچھے مولوی کے گرد گھومتی ہے اور فلم میں کسی بھی انفرادی شخص، کسی فرقے یا مذہب کی غلط ترجمانی نہیں کی گئی۔

سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا پر تا حیات پابندی لگانے کی درخواست دائر

علاوہ ازیں ‘زندگی تماشا’ پر تاحیات پابندی کے لیے انجمن ماہریہ نصیریہ نامی سماجی تنظیم نے 16 جولائی کو لاہور کی سیشن کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔
فلم سے متعلق سرمد کھوسٹ نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط لکھا جس میں انھوں نے کہا کہ میں نے یہ فلم زندگی تماشا کسی کو دکھ پہنچانے یا الزامات لگانے کے لیے نہیں بنائی، یہ ایک اچھے مسلمان کی کہانی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فلم میں انھوں نے کسی جماعت کو نشانہ نہیں بنایا-

آسکرز 2020 انتظامیہ نے مدعو افراد کی فہرست جاری کر دی

خیال رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث آسکر ایوارڈز کی تقریب اپریل 2021 میں ہوگی 93 ویں ‘آسکر’ ایوارڈز کی تقریب فروری کے آخر میں منعقد ہونا تھی تاہم اب اسے 25 اپریل 2021 کو منعقد کیا جائے گا نامزدگیوں کا اعلان 15 مارچ کو کیا جائے گا جب کہ اکیڈمی 15 اپریل تک نامزد ہونے والی فلموں کی حتمی فہرست جاری کردے گی فلموں کی نامزدگی کی فہرست جاری کرنے کے بعد 25 اپریل کو لاس اینجلس میں 93 ویں ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوگی-

کورونا وائرس: فلمی دنیا کے سب سے معتبر ایوارڈ کی تقریب 2 ماہ کے لئے موخر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.