پاکستانی طالبعلم نے گندے پانی کو صاف کرنے والی مشین بنا لی

ضرورت ایجاد کی ماں ہے ،پاکستانی طالبعلم نے گندے پانی کو صاف کرنے والی مشین بنا لی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی نجی یونورسٹی کے طالبعلم اسامہ نے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لئے مشین بنالی یہ مشین پانی میں موجود مالیکیولز کو توڑ کر پانی کو دوبارہ صاف بنا دیتی ہے

ہونہار طالبعلم نے ثابت کیا کہ اس کے لئے نہ تو بڑا پلانٹ درکار ہے اور نہ ہی زیادہ جگہ کی ضرورت ہے

نوجوان طالبعلم نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ والی مشین پول ٹائپ ہے ہماری یہ ایک منٹ میں بھی سٹیٹس صاف کرتی ہے اور اس پر ہونے والے خرچے کے بارے میں اسامہ نے بتایا کہ اس کی ریسرچ کا ٹیسٹنگ کا پیپرز کا ٹوٹل خرچ تقریباً 5.8 ملین روپے ہیں اور اس کو بنانے میں انہیں ساڑھے نو ماہ لگے ہیں

اسامہ نے شکوہ کیا کہ اس مشین کی حد تک پانی کو چیک کرنے کے لئے وہ کچھ ضروری ٹیسٹ اپنی جیب سے ہی کرو چکے ہیں نوجوان طالبعلم نے کہا مہ وہ اس مشین میں جدت لانا چاہتے ہیں لیکن حکومت یا فکٹری مالکان اس سے کساتھ تعاون کرنے پر تیار نہیں ہیں

اسامہ نے کہا کہ ویسٹ واٹر کی ٹیسٹنگ بہت مہنگی ہے لیکن ابھی تک وہ اپنی جیب سے کروا رہے ہیں جبکہ ان کے لئے یہ خرچ برداشت کرنا بہت مشکل ہے اسامہ نے کہا اس کے لئے وہ فنڈز چاہ رہے ہیں تاکہ وہ اس پلانٹ کو بڑے پیمانے پر لے کر جا سکیں اور اس پلانٹ کو پاکستان کو سرو کرنے میں لگا سکیں

اسامہ نے دعوی کیا کہ اس کی ایجاد مل مالکان کے خرچے کو بھی کم کر سکتی ہے

خیال رہے کہ پانی کا مسئلہ پاکستان کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے گندے پانی کو صاف کرنے والی مشین اور اس کو بنانے والے نوجوان طالبعلم اسامہ کا یہ دعوی ہے کہ اگر حکومتی تعاون ملے تو پاکستان میں پانی کے مسائل کے حل میں وہ اپنا کردار ادا کر سکتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.