بلوچستان میں مبینہ عسکری حملے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کو سرکاری اور معتبر ذرائع نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر بعض بھارتی حمایت یافتہ اکاؤنٹس نے یہ دعویٰ کیا کہ پنجگور کے علاقے گرمکان میں ایک حملے کے دوران بلوچ لبریشن آرمی نے مبینہ طور پر پاک فوج کے چار اہلکاروں کو شہید کر دیا۔دعوے کے وائرل ہونے کے باوجود کسی سرکاری محکمے، فوجی ترجمان یا آزاد و قابلِ اعتماد ذرائع نے اس نوعیت کے کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی۔ متعلقہ اداروں کے مطابق گرمکان یا آس پاس کے علاقوں میں کسی عسکری حملے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔فوجی جانی نقصان سے متعلق پھیلائی جانے والی خبر حقائق کے منافی ہے۔جھوٹی معلومات پھیلانا عوام میں بے چینی اور غلط فہمی پیدا کرنے کی سازش ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلانے کی کوششیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس طرح کی پوسٹس کا مقصد ریاستی اداروں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنا،عوامی اعتماد کو متزلزل کرنا،ملک میں انتشار پھیلاناہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹ کو فیکٹ چیک کے بعد مکمل طور پر جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔

یہ اسی نوعیت کی ایک اور کوشش ہے جس میں بیرونی حمایت یافتہ عناصر غلط معلومات کے ذریعے منفی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ماہرین اور حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی غیر مصدقہ معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیشہ سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔غلط خبریں پھیلانے سے نہ صرف معاشرتی بے چینی بڑھتی ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Shares: