قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے شہریوں سے فراڈ کرنے والی کمپنی کے 17 ہزار 500 متاثرین میں 3 ارب روپے سے زائد کی رقوم تقسیم کر دیں۔
خصوصی تقریب میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا کہ ملزمان سے 100 فیصد لوٹی گئی رقم وصول کر کے متاثرین کو واپس دینا ہمارا نصب العین ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ متاثرین کو رقم کے لیے نیب دفاتر آنے کی ضرورت نہیں ہوگی، رقوم براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی۔چیئرمین نیب کے مطابق اب تک 10 ہزار متاثرین کو مکمل رقم واپس کی جا چکی ہے، یہ پاکستان کے سب سے بڑے مالیاتی فراڈز میں سے ایک ہے۔
نیب اعلامیہ کے مطابق ملزمان نے شیل کمپنیوں کے ذریعے آن لائن فراڈ اسکیم چلائی، جس میں عوام کو 7 فیصد ماہانہ منافع کا لالچ دے کر اربوں روپے بٹورے گئے۔یہ تحقیقات 5 فروری 2021 کو شروع ہوئیں، جس کے دوران 56 بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور دیگر اثاثے منجمد کیے گئے۔ آن لائن ڈیٹا کے ذریعے متاثرین کے دعووں کی بھی تصدیق کی گئی۔
قانونی کارروائی کے نتیجے میں 7.3 ارب روپے کی ریکوری کا عمل جاری ہے، جس کے ابتدائی مرحلے میں 3.7 ارب روپے متاثرین کو واپس کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ مرحلے میں 7,500 متاثرین کو ان کی رقم کا 40 فیصد دیا جا رہا ہے جبکہ باقی 60 فیصد رقم ملزمان کی جائیدادوں کی نیلامی کے بعد چھ ماہ کے اندر ادا کر دی جائے گی۔
کراچی بارشوں سے مفلوج، 2 دن میں تاجروں کو 10 ارب کا نقصان، 20 افراد جاں بحق
شاہد آفریدی کا بونیر کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم
ڈاکٹر عمر عادل نسل پرستانہ نفرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار
جنرل ساحر شمشاد کا ازبکستان کا دورہ، صدر و عسکری قیادت سے ملاقاتیں