قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی اسٹوریج اور فروخت پر سخت کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے 1 کروڑ روپے جرمانہ تجویز کر دیا ہے۔

قائمہ کمیٹی اجلاس میں لائسنس کی منسوخی کے باوجود پیٹرول پمپ چلانے والے مالکان پر 10 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔سیکریٹری پیٹرولیم نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پیٹرولیم ترمیمی بل 2025 کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کی مؤثر روک تھام ہے۔ بل میں اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو ضبط کرنے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد، ترسیل، اسٹوریج اور تقسیم میں آئی ٹی سسٹم کے استعمال کے ذریعے پورے سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن کی جا رہی ہے، تاکہ مانیٹرنگ مؤثر ہو اور غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے۔

اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ پیٹرولیم سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن کا خرچ آخرکار عوام ہی کو برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم ترمیمی بل 2025 کے تحت حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ اس بل کے ذریعے نیا کیا لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں غیر قانونی پیٹرول پمپس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔قائمہ کمیٹی نے بل کے مختلف نکات پر غور کے بعد مجوزہ ترامیم پر مزید بحث آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دی۔

بنوں ،سیکیورٹی فورسز کا بڑا ایکشن، 14 سہولت کار گرفتار، 3 ٹھکانے تباہ

شہباز شریف کی اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کی شدید مذمت

پاکستانی کرکٹر مبینہ زیادتی کا الزام، مانچسٹر پولیس کی تفتیش جاری

Shares: