پنجاب فوڈ اتھارٹی سپورٹس فیسٹا 2022 کا انعقاد،قومی کھلاڑیوں کی بھی شرکت

پنجاب فوڈ اتھارٹی سپورٹس فیسٹا 2022 کا انعقاد۔ خوراک کے رکھوالوں کی اچھی صحت کے لیے کھیلوں کا اہتمام کیا گیا۔ افسران اور ملازمین کو کام کے ساتھ ساتھ چست و توانا رکھنے کے لیے سپورٹس کا اہتمام کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق خوراک کے رکھوالوں کی اچھی صحت کے لیے کھیلوں کا اہتمام کیا گیا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ افسران اور ملازمین کو کام کے ساتھ ساتھ چست و توانا رکھنے کے لیے سپورٹس کا اہتمام کیا گیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے تمام ونگز کو 6 ٹیموں میں تقسیم کیا گیا۔ جس میں 4 ٹیمیں میل سٹاف اور دوٹیمیں خواتین سٹاف کی شامل تھیں۔کرکٹ میچ کے پہلے مرحلے میں ٹیکنکل اور ایڈمن 2 ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں ایڈمن 2 نے بازی مار لی۔ کرکٹ میچ کے فائنل مرحلے میں میل سٹاف میں ایڈمن 1 اور ایڈمن 2 کے درمیان مقابلہ ہوا جبکہ فیمیل سٹاف میں ٹیکنیکل اور نیوٹریشن ٹیم کے درمیان مقابلہ ہوا۔ فیمیل سٹاف میں نیوٹریشن کی ٹیم اور میل سٹاف میں ایڈمن 2 کو فتح حاصل ہوئی۔

کرکٹ میچ میں سٹاف کے ساتھ ساتھ ڈی جی فوڈ اتھارٹی مدثر ریاض ملک نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مدثر ریاض ملک نے بتایا کہ سپورٹس فیسٹا میں کرکٹ کے علاوہ تیر اندازی اور رسا کشی کے مقابلے بھی کروائے گئے۔ تیر اندازی اوررساکشی میں پی آر کی ٹیمیں فاتح قرار پائیں۔ معروف کھلاڑی شاہین شاہ آفریدی،حارث راؤف، سی ای او لاہور قلندر عاطف رانا، سابق کرکٹر عاقب جاوید کی خصوصی شرکت کی۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی مدثر ریاض ملک نے مزید بتایا کہ شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف نے فاتح ٹیموں میں انعامات بھی تقسیم کیے۔ مزید بات کرتے ہوئے مدثر ریاض ملک کا کہنا تھا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران اور ملازمین دن رات اپنے فرائض باقاعدگی سے سر انجام دیتے ہیں۔ کام کے ساتھ ساتھ خود کوچست اور صحت مند رکھنے کے لیے کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کا ہونا انتہائی لازم ہے۔

شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ غذائیت سے بھرپور غذا کا چناؤ ہی صحت مند زندگی کاضامن ہے۔ جب کہ ان کے ساتھی کہلاڑی حارث راؤف کا کہنا تھا کہ روزمرہ کی انتھک محنت والے کام کے ساتھ کھیل کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ سی ای او لاہور قلندر عاطف رانا نے کہا کہ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کا عوام اور ملازمین کے لیے کیے گئے تمام اقدامات قابل تحسین ہے اور عوام کی صحت کے رکھوالوں کے لیے ایسی صحت مند سرگرمیاں ہوتی رہنی چاہیں۔

Shares: