سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد حکومتی رویے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی حالیہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ "ایکس” (سابق ٹوئٹر) کے بعد دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔محمد زبیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اینٹی اسٹیٹ (ملکی مفادات کے خلاف) کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسے اقدامات پہلی بار نہیں ہو رہے، بلکہ بار بار دیکھے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو اینٹی اسٹیٹ ٹیررازم کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اینٹی اسٹیٹ وہ چیز ہوتی ہے جو سب سے زیادہ مقبول ہوتی ہے۔
سابق گورنر سندھ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپریل 2022 سے برسراقتدار ہے، لیکن ڈالرز اور تیل کی اسمگلنگ کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔محمد زبیر نے پی ٹی آئی کے ساتھ پابندیوں کی بات کو ن لیگ کے بیانیے سے ہٹنے کا اشارہ دیا اور کہا کہ ن لیگ کے رہنما ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے پیچھے ہٹنے پر پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ن لیگ ایک قدم پیچھے ہٹتی ہے تو اسے وفاق اور پنجاب میں اپنی اکثریت کھونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

Shares: