fbpx

صدر آزاد کشمیر کا امریکی حکومت سے مودی حکومت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

مظفر آبادصدرآزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے امریکہ کی جوبائیڈن حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی طرف سے ہندو آبادی کی بڑےپیمانے پر منتقلی کے ذریعہ ریاستی مسلم اکثریت کو غیر قانونی طریقہ سے ختم کرنے کےمنصوبے اور مقبوضہ علاقے میں نہتے اور غیر مسلح کشمیریوں کے قتل عام کو بند کرانےکے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

وہ وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اپنے اس مفروضے پر نظرثانیکرے کے بھارت کی نو لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں دشت گردی سے لڑنے کے لیے آئی ہے۔ یہ جھوٹ پر مبنی بھارت کا بیانیہ ہے جس کا حقیقت سے دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایکقومی انگریزی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکہ بھارت سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بد ترین ظلم و تشدد بند کرانے اور شہری اور بنیادی آزادیوں کی بحالی کے لیے غیرمبہم اور دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کرے کیوں کہ امریکہ وہ ملک  ہے جو تقریباً ایک صدی سے انسانوں کے حق خودارادیت کی وکالت کرتا چلا آیا ہے اور اہم ایسے ملک سے یہ توقع نہیں رکھتے وہکشمیریوں کے حق خود ارادیت کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری جمہوریانداز میں آزادانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اوریہ کوئی انوکھا مطالبہ نہیں ہے بلکہ کشمیریوں کے اس حق کو اقوام متحدہ کی سلامتیکونسل کی قراردادوں کی شکل میں عالمی برادری نے پہلے ہی تسلیم کر رکھا ہے۔ عالمیبرادری اور عالمی میڈیا کی طرف سے کشمیر پر ایک بار بھی توجہ مرکوز ہونے کے امکاناتکے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس سےقبل  کے دنیا جموں و کشمیر کی طرف متوجہ ہوپاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو خود اپنی توجہ کشمیر پر مرتکز کرنی ہوگی کیوں  کہ دنیا یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ہمجس چیز کا مطالبہ اس سے کر رہے ہیں اس کیطرف ہماری اپنی توجہ کتنی ہے۔

دنیا کیتوجہ  براہ راست ہمارے جذبے اور کوششوں کےتناسب سے ہو گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ  مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیں اپنی کامیابیوں کو کم کر کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں تازہ جارحیتکے بعد دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہوا تھا اور مسئلہ کشمیر کو دنیا کی با اثرپارلیمانز اور سول سوسائٹی میں بڑے پیمانے پر زیر بحث لایا گیا تھا۔

لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ہمیں وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جو مطلوب تھے لیکن ہمارے سامنے مسلسل جدوجہد کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ بھارتی فوج کے محاصرے میں محصور کشمیری ہر روزاپنے مقدس خون کی قربانی پیش کر رہے ہیں اور اگر وہ  بھارتی فوج کی سنگینوں کے سائے میں ظالم کےسامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں تو ہم آزاد شہری ہیں اور ہماری کوششیں اور کارکردگیان سے زیادہ اور بہتر ہونے چاہیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.