پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف حکومتوں نے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم سیاست میں آنے والی پیچیدگیاں اور بعض سیاسی جماعتوں کے بیانیے نے ملک کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے، پی ٹی آئی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان میں ترسیلات زر بھیجنے سے گریز کریں۔ تاہم جنوری 2025 کے اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس بیانیے کے اثرات کم ہو گئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔سول نافرمانی ایک ایسا سیاسی عمل ہے جس میں عوام کسی حکومتی پالیسی یا فیصلے کے خلاف غیر قانونی طور پر مزاحمت کرتے ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال بھی دی گئی تھی، تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس بیان میں ان کی کوشش تھی کہ پاکستانی عوام حکومت کی غیر مقبول پالیسیوں کا مقابلہ کریں۔تاہم، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں اضافہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ عوام اس قسم کے بیانیے سے متاثر نہیں ہوئے اور وہ اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ اضافے نہ صرف حکومت کے پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہیں بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ پاکستانی قوم کی محبت اپنے وطن کے ساتھ کبھی کم نہیں ہوتی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ 25 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پیسہ پاکستان بھیجا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی بیرون ملک اپنے وطن کی حالت بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔یہ اضافہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بیرون ملک پاکستانی اپنے پیسوں کو پاکستان بھیجتے ہیں، تو اس کا مقصد صرف مالی امداد نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک علامت ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن کی معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ جنوری 2025 میں بھیجی جانے والی 3 ارب ڈالر کی رقم صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے آئیں، جہاں پاکستانیوں نے 72.83 کروڑ ڈالر بھیجے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 62.17 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 44.36 کروڑ ڈالر، اور امریکہ سے 29.85 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے وطن کی معیشت کے لیے بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ماہرین معاشیات اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافے کا ایک اہم سبب حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب حکومت نے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تو اس کا اثر بیرون ملک پاکستانیوں کی سوچ اور رویوں پر بھی پڑا۔یہ تمام ترسیلات زر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لوگ حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ اپنے پیسوں سے پاکستان کی معاشی ترقی میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کا "ملک دشمن بیانیہ” اب اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے اس بات کو سمجھا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ہر شخص کا کردار اہم ہے، اور وہ کسی سیاسی جماعت یا بیانیے کے اثرات سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جنوری 2025 میں ترسیلات زر میں اضافہ ایک اہم سنگ میل ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عوام اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی کسی بھی سیاسی یا جذباتی بیانیے سے متاثر ہوئے بغیر اپنے وطن کی ترقی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان کے عوام اپنے وطن کے مستقبل کے لیے یکجا ہیں اور اپنے ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی مدد فراہم کر رہے ہیں۔یہ ایک پیغام ہے کہ اگر حکومت اور عوام کے درمیان ایک مثبت تعلق قائم ہو، تو ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔








