پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران درجنوں افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ان دعووں کا کوئی حقیقی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔ نہ ہی کوئی ویڈیو یا تصاویر فراہم کی گئیں، نہ ہی کسی کی شناخت یا جنازہ کی تصاویر منظر عام پر آئیں۔ اس صورت حال پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں، کہ کیا ممکن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوں اور ان کا کوئی ثبوت نہ مل سکے؟

پی ٹی آئی کے ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ احتجاج یا پولیس کے ساتھ تصادم کے دوران درجنوں افراد مارے گئے ہیں، تاہم اس دعوے کے بعد کسی مستند ذرائع سے ایسی کوئی معلومات یا شواہد فراہم نہیں کیے گئے، جو اس کی حقیقت کو ثابت کرتے ہوں۔عام طور پر جب کسی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوتی ہیں، تو اس کے متعلق ویڈیوز، تصاویر اور میڈیا رپورٹس آنا معمول کی بات ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا اور مختلف نیوز چینلز کے ذریعے ایسی خبریں فوری طور پر پھیل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت اور متعلقہ ادارے عموماً ہلاکتوں کی تصدیق کے لیے بیان دیتے ہیں،لاشیں سامنے آتی ہیں ،جنازے ہوتے ہیں،لواحقین سامنے آتے ہیں، لیکن اس مرتبہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، جو اس دعوے کو حقیقت بناتا ہو۔

یہ صورتحال ایک مرتبہ پھر فیک نیوز کی اہمیت اور خطرات کو اجاگر کرتی ہے۔ جب تک اس قسم کے دعووں کی صحیح اور تصدیق شدہ معلومات فراہم نہیں کی جاتیں، تب تک عوام کے درمیان انتشار اور خوف پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، جھوٹی خبریں نہ صرف لوگوں میں افواہیں پھیلاتی ہیں بلکہ ملک کی سیاسی اور سماجی فضا کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

پاکستان میں فیک نیوز کے بڑھتے ہوئے مسائل کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ میڈیا کی آزادی اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حقیقت پر مبنی اور تصدیق شدہ معلومات کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ خاص طور پر ایسی خبریں جو انسانی جانوں کے نقصان سے متعلق ہوں، ان کا صحیح اور فوری تصدیق کرنا ضروری ہے۔

فی الحال پی ٹی آئی کی جانب سے کیے گئے ہلاکتوں کے دعووں کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی، اور نہ ہی کوئی ثبوت سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی یا کسی آزاد ذرائع سے کوئی بیان بھی نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔پاکستانی عوام کو ایسی خبریں نہ صرف محتاط طریقے سے سننی چاہئیں بلکہ ان کی حقیقت کی تصدیق کرنا بھی ضروری ہے۔ فیک نیوز نہ صرف عوام میں خوف اور انتشار پیدا کرتی ہے، بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر خبر کو تحقیق کے بعد ہی آگے پھیلائیں، تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور جھوٹ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مظاہرین کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے نیچے کچلا گیا تو فوری واقعہ کی نہ صرف تصاویر سامنے آئیں بلکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی، تین شہدا کا نماز جنازہ بھی ادا کیا گیا، آرمی چیف اور وزیراعظم نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، وہیں پولیس اہلکار کی شہادت ہوئی تو اسکا نام مع تصویر تمام تر تفصیلات سامنے آئین تا ہم پی ٹی آئی زبانی دعوے تو کر رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی دستاویزی ثبوت دعووں کی تصدیق کے لئے فراہم نہیں کر سکی.

قبل ازیں سیکیورٹی ذرائع نے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کی اموات کی خبر جھوٹی اور من گھڑت قرار دے دیا۔ سوشل میڈیا پر چند لوگوں کی جانب سے احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شیلنگ سے کئی مظاہرین کی اموات کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ مظاہرین کی اموات کی خبر جھوٹی اور من گھڑت ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

Shares: