پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا نے 5 اگست کو بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ”یومِ سیاہ“ منانے کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ٹی آئی قیادت نے اس احتجاج کو پرامن رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ اگر کوئی شرارت کی گئی تو کارکنان خاموش نہیں رہیں گے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور شہرام ترکئی نے صوابی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کو ملک بھر میں پرامن تحریک کا آغاز کیا جائے گا،اسد قیصر نے کہا کہ یہ دن بانی چیئرمین کی گرفتاری کے خلاف یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا، ان کی رہائی ان کا حق ہے، عدالتیں حکومتی دباؤ میں فیصلے دے رہی ہیں۔اسد قیصر نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ بانی کے مقدمات کو جلد نمٹائیں اور انصاف کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ بے توقیر ہو چکی ہے، اپوزیشن رہنماؤں کو ناحق سزائیں دی جا رہی ہیں۔

شہرام ترکئی نے کہا کہ ہم اسلحہ نہیں، قلم اور تجارت کے مواقع چاہتے ہیں، افغانستان سے تجارتی راستے کھولے جائیں۔ 5 اگست کو سفید، قومی اور پارٹی پرچموں کے ساتھ احتجاج ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پرامن ہیں، لیکن اگر شرارت کی گئی تو کارکن بھرپور جواب دیں گے۔

ہری پور میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے بھی یوم سیاہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کا احتجاج ضلعی سطح پر ہوگا، کوئی مرکزی احتجاجی تحریک نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی نے علی امین گنڈاپور کے استعفے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی عمر ایوب نے یہ بھی کہا کہ بانی کے بیٹے جب چاہیں پاکستان آسکتے ہیں، پی ٹی آئی کی پوری قیادت ان کا استقبال کرے گی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن مینا خان کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پشاور میں ریلی کی قیادت کریں گے جبکہ تمام اضلاع میں علیحدہ علیحدہ ریلیاں نکالی جائیں گی، مرادن، صوابی اور نوشہرہ کے قافلے صوابی انٹرچینج پر جمع ہوں گے۔

Shares: