پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوام کی حفاظت کے پیش نظر تین روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ یہ پابندی 22 اگست سے 24 اگست تک نافذ رہے گی، جس کے دوران جلسے جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور احتجاج پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، موجودہ صورتحال میں کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف بن سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں اور املاک کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی قسم کی عوامی سرگرمی، جیسے کہ جلسے جلوس، ریلیاں، یا احتجاجی مظاہرے، کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکومت نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ دفعہ 144 کی پابندی کو بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچایا جائے گا تاکہ لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہی ہو اور وہ اس دوران کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے بچ سکیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔پنجاب حکومت کے اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنا اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پابندی کا احترام کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔

Shares: