قلات کے علاقے نیمرغ کراس کے قریب مسافر کوچ پر مسلح افراد کے فائرنگ اور دستی بم حملے میں تین افراد جاں بحق اور بارہ زخمی ہوگئے۔ واقعہ کراچی سے کوئٹہ آنے والی ایک مقامی ٹرانسپورٹ کمپنی کی کوچ کے دوران پیش آیا۔

پولیس حکام کے مطابق، مسلح افراد نے پہاڑوں پر چھپ کر کوچ کو روکنے کی کوشش کی، تاہم ڈرائیور نے کوچ روکنے سے انکار کیا جس پر حملہ آوروں نے گاڑی پر گولیاں برسائیں اور دستی بم بھی پھینکے۔ اس حملے میں تین مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ بارہ دیگر زخمی ہوگئے۔حادثے کے فوری بعد لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کو فوری طور پر طلب کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں فوری طبی امداد دی جارہی ہے۔

واقعے کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کور نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔

ہم تو قوال ہیں، ہمیں کس بات کی سزا دی گئی،کوچ حملے میں بچ جانے والے مسافر کی گفتگو
قلات، ماجد صابری قوال گروپ دہشتگردی کا نشانہ بن گیا،ماجد صابری کی فیملی کے افراد حملے میں شہید ہوئے، ماجد صابری قوال گروپ کے 7 افراد شدید زخمی ہوئے، ماجد صابری گروپ کوئٹہ پروگرام کے لیے روانہ تھا، کل کوئٹہ میں ماجد صابری گروپ نے پرفارم کرنا تھا، ثقافتی امن کے سفیر دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے،قلات حملے میں بچ جانے والے مسافر ندیم صابری کا کہنا تھا کہ ہم کراچی سے قوالی کے ایونٹ کے لیے چلے تھے۔ہم تو قوال ہیں، ہمیں کس بات کی سزا دی گئی، ہمارے 3 ساتھی شہید ہو گئے،

دوسری جانب حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے آئی جی پولیس اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

قلات میں مسافر کوچ پر حملہ ایک بزدلانہ اور قابلِ نفرت دہشتگردی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ قلات میں مسافر کوچ پر حملہ ایک بزدلانہ اور قابلِ نفرت دہشتگردی ہے۔ قیمتی جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ فتنہ الہند کی دہشتگرد تنظیمیں پہلے شناخت کی بنیاد پر حملوں کا تاثر دیتی رہیں، اب اندھا دھند شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے یہ جنگ ہر عام پاکستانی کے خلاف ہے اور ہم اسے ہر قیمت پر ناکام بنائیں گے

بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی بھارتی ایماء پر دہشت گردی؛ معصوم جانوں کا ناحق خون
قلات میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے کراچی سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ پر فائرنگ کر دی۔ اس بزدلانہ کارروائی کے نتیجے میں تین معصوم شہری شہید اور دس زخمی ہو گئے۔یہ مسافر پرامن انداز میں بلوچستان کی سرزمین پر اپنے رزق کی تلاش میں سفر کر رہے تھے مگر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے اپنے بیرونی آقاوں کہ ایماء پر انہیں خون آلود کر دیا ،بھارت، جو جنگی میدان میں پاکستان سے شکست کھا چکا ہے، اب بزدلانہ طریقوں سے اپنی پراکسیز کے ذریعے بلوچستان میں نہتے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ حملے دراصل اس شکست خوردہ ذہنیت کا اظہار ہیں جو دشمن نے معصوم جانوں پر نکالنی شروع کر دی ہے۔بھارت اور اس کی پراکسیز فوج کے مقابلے پر نہیں آ سکتی اس لیے اب دہشت پھیلانے کے لیے انہوں نے سوفٹ اہدف تلاش کرنے شروع کر دیے ہیں یہ پہلی بار نہیں کہ فتنہ الہندوستان نے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنایا ہو۔ 11 جولائی کو ژوب میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے بسوں سے اتار کر معصوم مسافروں کو شہید کیا، اور خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس کو نشانہ بنا کر معصوم بچوں کو شہید کیا گیا۔ جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے بھی یہی بربریت دہرائی گئی۔بھارت کے یہ آلہ کار، جو اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے عام شہریوں کا خون بہا رہے ہیں، دراصل پاکستان بالخصوص بلوچستان میں ترقی کے عمل کو روکنا چاہتے ہیں۔ مگر ان کے یہ مکروہ عزائم کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔سکیورٹی فورسز بلوچستان میں بھرپور قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ سرچ آپریشن جاری ہے اور ان بھارتی ایجنٹوں کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔ بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔بلوچستان اور بلوچ عوام جانتے ہیں کہ دشمن کون ہے، اور کس کے اشارے پر ان کے بیٹے، بھائی اور بچے شہید کیے جا رہے ہیں۔ یہ جنگ پاکستان کے امن کے خلاف ہے، مگر ہم پاکستانی متحد ہیں، اور دشمن کے ہر وار کو ناکام بنائیں گے

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قلات میں مسافر بس پر فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے اور افسوسناک واقعے میں تین قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے،وزیراعلیٰ نےسوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کی اور کہا کہ ریاست متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

Shares: