قیامت کی نشانی ہے کہ یہ شخص نیب کی بات کر رہا ہے، اعظم سواتی نے کس بارے ایسا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا
وفاقی وزیر علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دو سال میں 309 ارب روپے ریکور کیے،ہماری حکومت بھی ان جیسے ہوتی تو ہم بھی آج کچھ ریکور نہ کرتے ،سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ ایک پارلیمانی سوال ہوا جواب کیوں نہیں دیا جا رہا؟
مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ والینٹری ریٹرن عدالتی فیصلے کے بعد ختم ہو چکا ،پلی بارگین ایک ایگریمنٹ ہے جو کہ ایک سزا ہے،اگر یہ تفصیلات جاننا چاہتے ہیں تو وہ فراہم کر دی جائیں گی،
اعظم خان سواتی نے کہا کہ جنہوں نے گاجریں کھائیں انہی کا پیٹ درد کرے گا،یہ قیامت کی نشانی ہے کہ جاوید عباسی جیسا شخص نیب کی بات کررہا ہے
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ مہنگائی سرکار نے گیس کی قیمتوں میں 5.4فیصد اضافہ کیا ،44روپے فی یونٹ اضافے کی مذمت کرتے ہیں،2سالوں میں حکومت نے گیس کی قیمتوں میں 334فیصداضافہ کیا،گیس کا گردشی قرضہ عوام کی نہیں حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہے، حکومت نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ، عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے،عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کا بوجھ ناقابل برداشت ہے،
قبل ازیں مجاہد علی کی زیر صدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور کا اجلاس ہوا. سینیٹ الیکشن اوپن کرنے، آبادی کی بجائے رجسٹرڈ ووٹرز اور حلقہ بندی پر بحث ہوئی،مخصوص نشستوں کی فہرستیں عام انتخابات کے بعد فائنل کرنے کی شق بھی شامل کی گئی،سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق اور دہری شہریت کے حامل افراد کو مشروط اجازت کی شق شامل کی گئی،کامیاب امیداور کو انتخابات کے 60 دن میں حلف اٹھانے کا پابند بنانے کی شق بھی شامل کی گئی،چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ الیکشن ترمیمی بل 2020 پر الیکشن کمیشن کا موقف لینا ہے،








