کرونا وائرس کے مسئلے میں الجھی دنیا کے نام رمضان کا پیغام!!! از قلم: غنی محمود قصوری

اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان کا ہے اس مقدس مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا
اللہ تعالی فرماتے ہیں
یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔ سورہ القدر 1
اس لئے اس مہینے کی حرمت باقی مہینوں سے زیادہ ہے اس مہینے میں مسلمان اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے روزہ رکھتے ہیں سحری سے لے کر نماز مغرب تک مسلمان اپنے رب کے حکم سے کھانے پینے سے رک جاتے ہیں اس مہینے کی فرضیت بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں
اے ایمان والوں تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کر سکو! سورہ البقرہ 183
اس آیت میں اللہ تعالی نے وضع کر دیا کہ پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے جیسے ہم پر فرض ہیں اور روزہ رکھنے سے بندہ متقی پرہیز گار بنتا ہے سو پرہیز گاری کو قائم رکھنے کیلئے اور اسلام پر ڈٹ جانے کیلئے روزے فرض کر دئیے گئے ہیں اللہ رب العزت کا مقصد روزے فرض کرکے ہمیں متقی اور پرہیز گار بنانا ہے جب بندہ متقی اور پرہیز گار بنتا ہے تب وہ جھوٹ ،غیبت،زنا ،چوری،ڈاکا غرضیکہ ہر برائی سے بچتا ہے اور نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے
انسان پورا سال غلطیاں گناہ کرتا رہتا ہے مگر وہ اس سے بے خبر رہتا ہے اور متقی بننے کی کوشش نہیں کرتا مگر آمد رمضان کیساتھ ہی مساجد نمازیوں سے بھر جاتی ہیں صدقہ و خیرات کی بہتات ہو جاتی ہے اور ہر بندہ تزکیہ نفس کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ متقی بن جائے اور اللہ کی طرف سے متقیوں کے لئے طے کردہ انعام جنت الفردوس کا حق دار ٹھہرے
یہ مہینہ بہت برکتوں رحمتوں والا ہے اس مہینے اگر مسلمانوں کی عبادات بڑھ جاتی ہے تو اللہ رب العزت بھی اپنے بندوں کیلئے نیکیوں کا خزانہ کھول دیتے ہیں ایک کی گئی نیکی کے اجر کو بڑھا کر ستر گناہ یا اس سے بھی زیادہ اجر کر دیا جاتا ہے
اس مہینے میں جہاں حقوق اللہ پر زور دیا گیا ہے وہاں حقوق العباد پر بھی خوب زور دیا گیا ہے اور شرک سے بچنے کے بعد اللہ تعالٰی نے سب سے زیادہ زور حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق پر دیا ہے
اللہ تعالی فرماتے ہیں
ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔ سورہ البقرہ 177
اس مہینے میں ہماری عبادات کا دائرہ کار تو وسیع ہونا ہی ہے مگر اس کیساتھ لوگوں کے حقوق بھی ہم پر بڑھ جاتے ہیں اپنے اردگرد قرب و جوار خاندان برادری گلی محلے کے لوگوں کی مدد ہم پر نفلی و فرضی عبادت کی طرح بڑھ جاتی ہے سو ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے سے کم اور غریب لوگوں کا زیادہ سے زیادہ مالی و ہر طرح کا خیال رکھیں تاکہ وہ بھی ماہ مقدس کے روزے رکھ کر سکون حاصل کر سکیں کیونکہ فرمان مصطفی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں اس وقت تک لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے یہاں بھائی سے مراد تمام مسلمان ہیں
چونکہ اس وقت پوری دنیا کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کی لپٹ میں ہے جس سے لوگوں کے کاروبار ختم ہو چکے ہیں لوگ کھانے پینے سے محروم ہیں اس صورت میں جہاں فرضی و نفلی عبادت ہم پر فرض ہے ویسے ہی اپنے بھائیوں کی مالی مدد اور اپنی عبادات کے دوران ان کے لئے دعا بھی ہم پر فرض ہے تاکہ اللہ رب العزت راضی ہو کر ہماری مدد میں لگے رہیں اور ہم اپنے بھائیوں کی مدد کی بدولت رحمت الہی سے فیض یاب ہوتے رہیں سو رمضان گزر رہا ہے اپنے بھائیوں کی مدد میں لگ جائیں ان کے کھانے پینے ان کی رہائش و آسائش کا اہتمام جلد سے جلد کیجئے تاکہ ایک نیکی کے بدلے ہم ستر گناہ اجر پا سکیں اور فرض روزے رکھنے میں ان کے معاون بن سکیں اللہ ہم سب سے راضی ہو جائے اور ہماری نفلی فرضی عبادات کیساتھ اپنے بھائیوں کی مدد کرنا بھی قبول فرمائے آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.