جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش…از…انشال راؤ

عورت کے بغیر انسانی معاشرے کی تکمیل ممکن نہیں، یہ عورت ہی ہے جو بچوں کی پرورش کرتی ہے جو معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کرنے کا زریعہ بنتے ہیں، مودی ہو یا موہن بھاگوت، پنڈت ہو یا سوامی سب ہی عورت کے بطن سے پیدا ہوکر آج اس زمین پر اکڑ کر چل رہے ہیں،

عورتوں کے حقوق کے لیے پوری دنیا میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور اس سلسلے میں بیحد ڈویلپمنٹ بھی سامنے آئی ہے لیکن افسوس ہے کہ بھارت دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں عورت کو جنسی تسکین کا زریعہ سمجھا جاتا ہے اور ہندوتوا کے ہاتھوں میں جانے کے بعد بھارت میں ریپ کیسز میں کئی سو گناہ اضافہ ہوا ہے،

بھارتی اعداد و شمار کے مطابق یومیہ 92 ریپ و گینگ ریپ کے کیسز پولیس میں رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں کیسز یا تو بدنامی سے بچنے کے لیے رپورٹ نہیں ہوتے یا پولیس ان کو رپورٹ نہیں کرتی جیسا کہ کچھ دن پہلے ہی کی بات حیدرآباد کے قریب ایک گاوں میں ایک غبارے و ٹافیاں بیچنے والی دلت عورت کا گینگ ریپ کرنے کے بعد قتل کردیا گیا جس کی رپورٹ درج کروانے اس کا خاوند پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹتا رہا لیکن اس کے دلت ہونے کی وجہ سے کسی نے ایک نہ سنی،

بڑھتے ہوے ریپ کیسز کی وجہ سے بھارت کو اب ریپستان کا نام دیا جارہا ہے، ریپ کلچر میں اضافے کی وجہ ہندوتوائی سوچ و رہنما ہیں، جیسا کہ اعلانیہ طور پر BJP سے منسلک ہندوتوا خواتین ونگ رہنما سنیتا سنگھ گاد نے کہا کہ ہندو دس اور بیس کی ٹولیاں بناکر مسلم خواتین کا ریپ کریں، اس کے علاوہ ہندوتوا سوچ و فکر کے مطابق دلت طبقے کو اونچی ذات کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے، جب یہ سوچ فکر پروان چڑھیگی تو یقیناً ریپ کیسز میں اضافہ ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں،

رواں ماہ حیدرآباد سے ایک وٹنری ڈاکٹر خاتون کو اغوا کرکے ریپ کے بعد زندہ جلادیا گیا جس پر پورے بھارت میں خواتین کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا جسکے بعد حکومت و پولیس کو مجبوراً حرکت میں آنا پڑا اور چار ملزمان کو عدالتی کاروائی کیے بغیر ہی پولیس مقابلہ دکھا کر قتل کردیا گیا لیکن اس کیس میں ایک انتہائی بھیانک پہلو دیکھنے میں آیا،

سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ نے تقریر کرتے ہوے کہا کہ ریپ کرنے والوں کو Lynch کیا جانا چاہئے اور عوام قانون کو ہاتھ میں لیکر ان کا قتل کرے جبکہ دوسری طرف پولیس کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی چاروں ملزمان کے نام میڈیا تک پہنچ گئے لیکن ہندوتوا میڈیا نے ان چار میں سے ایک مسلمان ملزم کے نام کو لیکر نفرتیں بکھیرنا شروع کردیں جسکے بعد ہندوتوا آرمی کا طوفان سوشل میڈیا پہ اتر آیا اور مسلمانوں کے خلاف مذموم مہم شروع ہوگئی جسکے اثرات بہت منفی آئینگے،

اس سے پہلے کسی بھی مسلمان پر گائے ذبیحہ یا گائے کے گوشت کا الزام لگا کر قتل کردیا جاتا تھا اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، اور اب ایک بار پھر ہندوتوا آرمی کو ایک بہانہ دیدیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان فرد پر الزام لگا کر اسے قتل کردیں، یہ کوئی انوکھا کیس نہیں ہوا اسی روز ایک 23 سالہ خاتون کو ریپ کیس کی پیشی پر جاتے ہوے ملزمان نے قتل کرکے جلادیا،

اس کے علاوہ کچھ روز قبل حیدرآباد ہی کے قریب ایک دلت خاتون کو ریپ کے بعد جلادیا گیا اور کچھ عرصہ پہلے ہی BJP رہنما کلدیپ سنگھ سنگار ریپ کرنے کے مرتکب ہوے اور متاثرہ عورت کو عدالت جاتے ہوے کچل دیا گیا لیکن نہ ہندوتوا میڈیا کو تکلیف ہوئی نہ ہی ہندوتوا آرمی کو عورت کی عظمت کا خیال آیا جبکہ وٹنری ڈاکٹر کے کیس میں ایک مسلمان ملزم جس پر ابھی جرم ثابت بھی نہیں ہوا تھا کے نام کو لیکر ہندوتوا میڈیا نفرتوں و اشتعال انگیزی پھیلاتا رہا جبکہ اس میں نامزد دیگر تین ہندو ملزمان کا ذکر تک نہ کیا،

اب اگر آنے والے دنوں میں کسی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شخص بالخصوص مسلمان یا پھر کسی دلت کو ریپ کا الزام لگا کر قتل کیا گیا تو اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، ہندوتوا لیڈرز پر یا ہندوتوائی میڈیا پر؟ جب سے BJP اقتدار میں آئی ہے تو بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ ہوتی جارہی ہے اور بھارتی میڈیا انسانی و عالمی حقوق کے برخلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اور ایک مخصوص ایجنڈے پہ عمل پیرا ہے جسکے نتیجے میں پورا خطہ آگ و خون کی لپیٹ میں آجانا ہے، بھارتی میڈیا کے غیرذمیدارانہ کردار کے نتیجے میں پہلے ہی بھارت میں لاکھوں خاندان اجڑ چکے ہیں

لیکن ہندوتوا میڈیا اسی روش پہ قائم ہے عالمی انسانی حقوق کے ذمہ دار اداروں و طاقتور ممالک کو اب بھارتی رہنماوں و میڈیا کے اس غیرذمیدارانہ کردار پر ٹھوس ایکشن لینا ہوگا ورنہ انسانی روپ میں چھپے یہ بھیڑئیے دنیا کے امن کو تباہ و برباد کردینگے۔
آرزوئے سحر
تحریر: انشال راؤ
عنوان: جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.