لاہور میں صحافی کالونی کی کمرشل پراپرٹی پر قبضہ کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ آج صبح سے قبضہ گروپ نے کالونی میں بلا اجازت تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے، جس کے خلاف صحافی برادری میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

پروگریسو گروپ کے رہنما معین اظہر کی جانب سے جاری اعلامی کے مطابق لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سیکرٹری زاہد عابد سمیت دیگر عہدے دار اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کے جاری کردہ اسٹے آرڈر کے باوجود قبضہ گروپ کو تعمیرات کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے صحافیوں میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے کیونکہ انہیں اپنے گھروں کی تعمیر کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔محکمہ اطلاعات کے تحت قائم جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا عملہ بھی اس حساس صورتحال میں غائب ہے اور وزیر اطلاعات کی جانب سے بھی کوئی بیان یا کارروائی سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب، صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم "پروگیسو گروپ” نے اس غیر قانونی قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت خصوصاً وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ پروگیسو گروپ کے چیرمین معین اظہر کا کہنا ہے کہ کالونی میں قبضہ گروپ کڑوروں روپے مالیت کی اراضی پر ناجائز قبضہ کر چکے ہیں اور اس پر قابو پانا ناگزیر ہے۔معین اظہر نے کہا کہ اس جگہ پر قبلاً تین بار قبضہ مکرر کوششوں کے ذریعے ناکام بنائی گئی ہے لیکن اب صورت حال مزید سنگین ہو چکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے پر زور کہا کہ ایماندار افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو قبضہ گروپ اور اس سے منسلک اہم شخصیات کو بے نقاب کرے۔اگر فوری طور پر قبضے کی روک تھام نہ کی گئی تو صحافی برادری محکمہ اطلاعات کے سامنے بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

Shares: